تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 60 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 60

۵۶ اسی طرح وہ بیان کرتے ہیں کہ میں تین ماہ سے اکیلا ہی کام کر رہا تھا کہ ایک دن حضور نے فرمایا۔۔۔۔میں نے دیکھا ہے کہ آپ اکیلے ہی کام کرتے ہیں، آپ ایک کلرک رکھ لیں اُسے تنخواہ میں تحریک جدید سے دوں گا چنانچہ میں نے پٹیالہ کے ایک پوسٹل کلرک کو رکھ لیا وہ بڑے محنتی اور شوق سے کام کرنے والے تھے۔میرے ساتھ بڑی رات تک کام کرتے تھے اور وہاں بجا کر بیمار ہو کر وفات پا گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔۔۔اس کے بعد میں نے چودھری عبدالرحیم صاحب تیمیہ کو پندرہ روپے ماہوار پر رکھا۔ان کو اللہ تعالیٰ نے حافظہ ایسا عطا فرمایا ہے کہ وہ تحریک جدید کا دفتری کام اکثر یادداشت سے کرتے۔بسا اوقات دوست دفتر میں آکر چوہدری صاحب سے اپنا حساب وعده و وصولی دریافت کرتے تو آپ زبانی ہی بتا دیتے اور اگر بعض اصرار کرتے کہ ریکارڈ دیکھ کر بتاؤ تو ان کو رجسٹر سے حساب دکھا کر مطمئن کر دیتے۔بات یہ ہے کہ چوہدری صاحب نے اپنے ہاتھ سے سارا ریکارڈ رکھا ہوتا تھا اور پھر آمدہ خطوط کے وعدوں کی منظوری دی ہوتی تھی۔اور وہ کام کو نہایت سرگرمی اور تندہی سے پورا کرتے۔دفتر بند نہ ہو تا جب تک کام ختم نہ کر لیتے۔اگر کام زائد ہوا تو گھر لے جا کہ پورا کرتے " کے صیغہ امانت جائیداد یہاں یہ بتا دینا ضروری ہے کہ تحریک جدید کے مطالبہ ملا کے مطابق تو قوم باہر سے آتی تھیں ان کا حساب اور خون کا انتظام صیغہ امانت جائیداد کا فرض تھا۔اس صیغہ کے سکرٹری حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور انچارج دفتر حضرت مولوی فخر الدین صاحب آف گھوگھیاٹ تھے۔تحریک جدید کا پہلا بجٹ ۶۱۷۸۲/۲/۶ روپے کا متھائیں تحریک بدید کا پہلا بجٹ (خرج ) کی تفصیل صدر انجمن احمد یہ قادیان کے ریزولیوشن ۱۷۸ مورخہ م مئی ۱۹۳۵ء میں ملتی ہے۔چنانچہ ملک لکھا ہے: پوسٹ ناظر اعلیٰ کہ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے تحریک جدید کا بجٹ ارسال فرمایا ہے جو کہ مبلغ ۶۱۷۸۲/۲/۶ روپیہ کا ہے حضور کا ارشاد حسب ذیل ہے۔تحریک عدیدہ کا بجٹ ارسال ہے۔اسے صدر انجمن احمدیہ کے بجٹ کے ساتھ شامل کرلیں۔اس کے نے تحریک جدید میں تقرری و مٹی شاہ له اصحاب احمد یاد رفتم صفحه ۲۳۵ - ۲۳۶ *