تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 59
۵۵ وہ تمام ذخیرہ پاکستان آتے وقت ساتھ نہ لا سکا سوائے تحریک جدید کے رجسٹروں کے لئے پھر لکھتے ہیں :- مجھے خوب یاد ہے کہ پہلے سال کے وعدوں کی آخری میعاد پندرہ جنوری ۱۹۳۵، یعنی کل ڈیڑھ ماہ اور وعدوں کے خطوط ۲۳ جنوری تک آئے جن کی میزان ایک لاکھ دس ہزار ہوئی جو تحریک کے مطالبہ ۲۷ ہزار سے چار گنا تھی۔ہے جماعت کے اخلاص اور حضور کی دعائوں کا نتیجہ تھا۔خاکسار جو روزانہ تفصیلی رپورٹ دیتا تھا، ۲۳ جنوری کے بعد اُسے خاکسار نے بند کر دیا اور یہ خیال کیا کہ اب صدر انجمین احمدیہ کے قواعد کے مطابق ہفتہ وار رپورٹ پیش کیا کروں گا۔تین دن متواتر رپورٹ نہ ملنے پر حضور نے خاکسار کو بیلا کو پوچھا کہ رپورٹ تین دی کیوں نہیں دی۔خاکسار نے عرض کیا کہ اسب وعدے آپکے ہیں خاکسار آئیندہ بہ طریق صدر امین احمد ید ہفتہ وار رپورٹ پیش حضور کرے گا۔اس پر فرمایا میرے ساتھ کام کرنے والے کو روزانہ رپورٹ مجھے پہنچا کر دفتر بند کرنا ہوگا۔پس اُس دن سے آج کا دن ہے کہ خاکسار بلاناغہ تفصیلی رپورٹ روزانه به توفیق الہی حضور اقدس کی خدمت میں پیش کرتا رہا ہے فالحمد للہ اللہ نیز تقریر کرتے ہیں کہ :۔جنوری ۳ہ کا ذکر ہے کہ تحریک جدید کے بارے میں ایک دوست کو میں نے خط لکھا۔ایک لفظ مجھ سے نادانستہ ایسا لکھا گیا جس سے اس دوست نے میرے لہجہ کو حاکمانہ مجھ کو حضور کی خدمت میں میری شاعات کی۔اس وقت تحریک کی ساری خط و کتابت حضور کی خدمت میں آتی تھی۔بحضور نے خاکسار کو بلا کر پوچھا کہ کیا آپ نے کسی کو یہ لفظ لکھا تھا۔میں نے معا عرض کیا کہ حضور یا لکھا تھا۔اس پر حضور نے جو کچھ فرمایا اس کا مفہوم یہ تھا کہ : یہ تو حاکمانہ طریق ہے میرے ساتھ جس نے کام کرتا ہے اسے اسلامی شعار اختیار کرنا ہوگا کیونکہ میرا کام اسلام کا استحکام اور اس کا مضبوط کرتا ہے۔پس اس دن سے میں نے حضور کے ارشادات کی روشنی میں تعمیل کرنا اپنا طریق بنایا " سے نے اصحاب احمد جلد ہفتم طبع اول صفحه ۲۳۲ تا صفحه ۲۳۶ و مؤلفه ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے ناشر احمدیہ سکھر پو ربوہ طبع اول اگست ۱۹۷۳ تے Pr Pr P $ صفحه ۲۳۵ صفحه ۲۳۵۰۲۳۴ > "