تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 49
۴۵ شرف حاصل کیا اور مادر سمبر سنہ کو قادیان کے اندرونی حصہ سے ایک ہزار شہتیریاں سالانہ جلسہ گاہ تک پہنچائیں۔۹۳۶ لہ سے اس مطالبہ کے تحت اجتماعی وقار عمل“ کا سلسلہ بھاری کیا گیا جیسا کہ آگے ذکر آئے گا۔جہانتک قادیان میں مکان بنانے کا تعلق تھا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی قادیان میں تعمیر مکان کا مطالبہ نے جماعت کے طرز عمل پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے شروع شہر میں فرمایا۔جماعت نے اس معاملہ میں بہت کچھ کام کیا ہے۔چنانچہ اب دو سو مکان سالانہ خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان میں بن رہا ہے اور بہت سے دوست زمینیں بھی خرید رہے ہیں" ہے جماعت احمدیہ اگر چہ ہمیشہ غلبہ حق کے لئے دُعاؤں میں مصروف رہتی تھی مگر تحریک جدید کے مطالبہ دُعا مطالبات کے ضمن میں حضور رضی اللہ عنہ) نے جو خاص تحریک فرمائی اس کی بناء پر جماعت میں خاص جوش پیدا ہو گیا اور احباب جماعت نے خدا تعالیٰ کے سامنے جبین نیاز جھکانے میں خاص طور پر زور دینا شروع کیا اور نمازوں میں عاجزانہ دکھاؤں کا ذوق و شوق پہلے سے بہت بڑھ گیا اور جماعت میں ایک نئی روحانی زندگی پیدا ہوگئی۔فصل چهارم خاندان مسیح موعود کی قربانیاں جس طرح دوسری احمدی جماعت میں قادر ان کی کی نجات نے جے کی جدید کے چندہ اور دوسرے مطالبات کی تکمیل میں سب سے عمدہ نمونہ دکھایا۔اسی طرح قادیان کی جماعت میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خاندان تحریک تجدید کی قربانیوں میں بالکل ممتاز اور منفرد تھا چنانچہ حضرت ام المومنین رضی الل عنها حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ، حضرت مرزا شریف احمد صاحب ، حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ اور صاحبزادی رسیده المتہ الحفیظ بیگم صاحبہ اور خاندان مسیح موعود کے دوسرے افراد نے قربانیوں کی قابل رشک یادگار قائم کی بیے " الفضل " ۵ار فروری ۱۹۳۶ صفحه ۶ کالم ۴ : له الفضل 14 دسمبر ۳ بر صفر ا کالم 1 " سے چندہ کی تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو کتاب "تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین "۔