تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 655
۶۲۸ مباحثہ منڈی ملوٹ (ضلع فیروز پور) ۲۸-۲۹ ستمبر کو مولوی ابوالعطاء صاح بے سائیں لال حسین صاحب اختر سے تینوں اختلافی (وفات مسیح اسئله نبوت اور صداقت مسیح موعودی) مسائل پر مناظرہ کیا۔مناظرہ کے دوران غیر احمدی مناظر اور صدر نے گالیاں دینے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا بھی کہ ہندوؤں نے بآواز بلند کہا۔کہ غیر احدی مولوی گالیوں پر اتر آئے ہیں آپ ان کی گالیوں کا جواب کیوں نہیں دیتے ؟ اگر احمدی مناظر نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے عین مطابق آخر وقت تک متانت و شائستگی سے بحث جاری رکھی۔لے 2ء میں بہت سے افراد داخل احمدیت ہوئے۔خصوصا جلسہ خلافت جوبلی کے نئے مبائعین موقعہ پر سینکڑوں اصحاب حضرت خلیفہ المسیح الثانی بن کے دست مبارک پر بعیت کر کے سلسلہ احمدیہ سے وابستہ ہو ئے۔جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی قوت قدسی اور روحانی جذب کشش کا واضح نتیجہ اور سلسلہ احمدیہ کی حقانیت کا بھاری ثبوت تھا بے فصل ۱۹۳۹ 19ء میں سلسلہ احمدیہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے قیام خلافت ثانیہ کے بالکل ابتدائی ایام میں دجبکہ انجین کا خزانہ خالی تھا۔اور منکرین خلافت نظام کا مرکزی نظام خلافت کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلے ہوئے تھے اور اپریل کا شد کو پیش گوئی فرمائی تھی کہ : " خدا ہی کے حضور سے سب کچھ آویگا۔میرا خدا قادر ہے جس نے یہ کام میرے سپرد کیا ہے۔وہی مجھے اس سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق اور طاقت دیگا۔کیونکہ ساری طاقتوں کا مالک تو وہ آپ ہی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس مقصد کے لئے بہت روپیہ کی ضرورت ہے بہت آدمیوں کی ضرورت ہے۔مگر اُس کے خزانوں میں کس چیز کی کمی ہے ؟ کیا اس نے به الفضل ۲۴ اکتوبر و مت ١٩٣ فہرست کے لئے ملاحظہ ہو الفضل ۱۳ار فروری مرمت - ۱۵ر فروری ۱۲ اور ۲ - ۲۳ فروری ۱۹۲ ، صحت بنے