تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 643
رہے تھے۔میں پنڈال میں اختتام تقریر تک موجود رہا - - ۲۸ ۲۹ دسمبر کو بھی تقریروں سے محفوظ ہوتا رہا۔حضرت امیر سلسلہ کی تقاریر سننے کا خاص طور پر آرزو مند تھا۔کیونکہ میں ان کی ایک شاندار تقریر سے جوں ہور بریڈل ہال میں آپ نے شاید شش میں فرمائی تھی۔مسرور ہو چکا تھا۔جو بین الاقوامی اتحادی کمیٹی تھی۔اور پسند خاص عام تھی۔۲۰ء کی شام کی ٹرین سے میں لاہور واپس آگیا۔تمام اجلاس خدا کے فضل و کرم سے حد درجہ کامیاب اور پُرشکوہ تھے۔انتظام کے لحاظ سے بھی ہر چیز قابل داد تھی۔میں ایک غیر احمدی ہوں۔مدت سے افریقہ میں رہتا ہوں۔ہاں میرے احمدی احباب کا حلقہ بہت وسیع ہے۔قادیان سے واپسی پر میں اپنے دل میں جماعت احمدیہ کی تنظیم اور اس کی اسلامی خدمات خصوصا حضرت امیر سلسلہ کی تبلیغی سرگرمیوں کی نسبت اور اس راہ بہت سے تاثرات لیکر آیا ہوں۔اسی سلسلہ میں جشن خلافت جو بلی پر میں نے چند اشعار کہے ہیں۔جو درج ذیل کرتا ہوں :- دو روز قادیاں میں رہا ہے میرا قیام دیکھا رو پہلی جوبلی کا خوب اہتمام اس جشن جوبلی کے لئے آئے شوق سے بر صوبہ و دیار کے افراد خاص و عام عیسائی ہندو سکھ و مسلمان پشتمل ہر فرقہ و عقیدہ کا مجمع تھا لا کلام جلسے میں یوں تو سارے مقرر تھے باخبر لیکن امیر سلسلہ کرتے تھے دل کو رام روحانیت کے پھول بکھرتے تھے ہر طرف ہوتے تھے اہل طلبہ سے چندم وہ ہم کلام لیے اور نے بحوالہ افضل اور جنوری ۱۹۴۰ بر صفحہ و کالم ۲