تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 631
قربانی پیش کروں گا۔کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام دوسے سب دینوں اور سلسلوں پر غالب رہے۔اور اس کا جھنڈا کبھی سرنگوں نہ ہو۔بلکہ دوسرے سب جھنڈوں سے اُونچا اٹر تالے ہے اسے اللهم آمين - اللهم امين اللهم امين۔ربنا تقبلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمة اس کے بعد پروگرام کا وہ حصہ شروع ہوا۔جو سلسلہ کی لوائے احمدیت بلند کیا گیا۔تاریخ میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔اور جماعت احمدیہ میں۔۔۔۔جوش اور ولولہ پیدا کرنے کا خاص ذریعہ ہے۔یعنی جماعت احمدیہ کے جھنڈے کو بلند کرنا جیسا کہ پہلے تفصیل ذکر آچکا ہے۔بھنڈا سیاہ رنگ کے کپڑے کا تھا۔جس کے درمیان منارة المسیح۔ایک طرف بذر ، اور دوسری طرف ہلال کی شکل سفید نہن میں بنائی گئی تھی۔کپڑے کا طول اٹھارہ فٹ اور عرض تو فٹ تھا۔اور اسے بلند کرنے کے لئے سٹیج کے شمال مشرقی کونہ کے ساتھ باسٹھ فٹ بلند آہنی پول پایے فٹ اونچا چبوترہ بنا کر نصب کیا گیا تھا۔منضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی نہ سٹیج سے اتر کر با محکوم منٹ پر اس جیپوترہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا۔تمام احباب رَبَّنا تقبل منا ہم اِنَّكَ اَنتَ السَّمِيعُ الْعَلیم کی دُعا پڑھتے رہیں۔یہ دُعا پڑھتے ہوئے اور اس نظارہ سے متاثر ہو کر بہتوں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔اور تمام جمع پر رقت طاری ہوگئی حضرت میر المو منین نے بھی رقت انگیز آواز میں ربَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيم بأواز بلند پڑھ رہے تھے۔لیٹے ہوئے پھر یہ ہے کے کھلنے کے بعد حضور نے نعرہ ہائے تکبیر کے درمیان جھنڈے کی رسی کو کھینچا اور جھنڈا اوپر کو بلند ہونا شروع ہوا۔اور نعرہ ہائے تکبیر کے دوران میں توری بلندی سے پہنچ گیا۔جھنڈے کے بلند ہوتے وقت ہوا بالکل ساکن تھی قدرت الہی کا ایک عجیب کرشمہ اور رجھنڈا اوپر تک اس طرح لیٹا ہوا گیا۔کہ اسکے نقوش نظر نہ آ سکتے تھے۔لیکن اسکے اوپر پہنچتے ہی ہوا کا ایک ایسا جھونکا آیا کہ تمام جھنڈا اٹھل کو لہرانے لگا۔روئیداد جلسه خلافت جویلی صفحه ۹ تا ۲۴ :