تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 630
4-0۔ادر صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی منظم تھیں۔اسلئے صحابہؓ نے اپنی جانوں سے اُن کے اُونٹ کی حفاظت کی۔اور تین گھنٹہ کے اندر اندر ستر جلیل القدر صحابی کٹ کر گر گئے۔قربانی کی ایسی مثالیں دلوں میں جوش پیدا کرتی ہیں۔میں جھنڈا نہایت ضروری ہے۔اور بجائے اس کے کہ بعد میں آکر کوئی بادشاہ اسے بنائے یہ زیادہ است ہے کہ یہ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھوں اور میخوردہ خلافت کے زمانہ میں بن جائے۔اگر اب کوئی جھنڈا نہ بنے۔تو بعد میں کوئی جھنڈا کسی کے لئے سند نہیں ہو سکتی۔چینی کہیں گے ہم اپنا جھنڈا اپناتے ہیں۔اور جاپانی کہیں گے اپنا۔اور اس طرح ہر قوم اپنا اپنا جھنڈا ہی آگے کرے گی۔آج یہاں عرب۔سماٹر کی۔انگریز سب قوموں کے نمائندے موجود ہیں۔ایک انگریز نو مسلمہ آئی ہوئی ہیں اور انہوں نے ایڈریس بھی تیپیش کیا ہے۔جاوا۔سماٹرا کے نمائندے بھی ہیں۔افریقہ کے بھی ہیں۔انگریز گویا یورپ اور ایشیا کے نمائندے ہیں۔افریقہ کا نمائندہ بھی ہے۔امریکہ دالوں کی طرف سے بھی تار آگیا ہے۔اور اس لئے جو جھنڈا آج نصب ہو گا۔اس میں سب قومیں شامل سمجھی جائیں گی۔اور ذکا جماعت کی شوکت کا نشان ہوگا۔اور یہی مناسب تھا کہ جھنڈا ابھی بن جاتا۔تا بعد میں اس کے متعلق کوئی اختلاف پیدا نہ ہوں۔پھر یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے۔حضرت سیح موعود علیہ اسلام کے ایک شعر کو بھی پورا کرتا ہے۔رسول کریم صلی الہ علیہ حکم نے فرمایا تھا۔کہ مسیح دمشق کے منارہ مشرقی پر اترے گا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہزاروں روپیہ خرچ کر کے وہ منارہ بنوایا۔تا رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کی بات ظاہری رنگ میں بھی پوری ہو۔اور میدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ اُس نے ہمیں یہ جھنڈا بنانے کی توفیق دی۔کہ جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک شعر ظاہری رنگ میں بھی پورا ہوتا ہے اور اس وجہ سے گہ ہم لوگل کو باطن کا بھی خیال رہے۔اور یہ محض ظاہری رسم ہی مندر ہے۔میں نے ایک اقرار نام تجویز کیا ہے۔پہلے میں ایسے پڑھ کر سنا دیتا ہوں۔اس کے بعد میں کہتا جاؤں گا۔اور دوست اسے دہراتے جائیں۔اقرار نامہ یہ ہے :- میں اقرار کرتا ہوں کہ جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے۔اسلام اور احمدیت کے قیام اسکی مضبوطی اور اس کی اشاعت کے لئے آخر دم تک کوشش کرتا رہوں گا۔اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے اس امر کے لئے ہر ممکن