تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 629 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 629

مهم کرنے کے لئے یہ تجویزیں ہیں۔اس کے بعد میں جھنڈے کے نصب کرنے کا اعلان کرتا ہوں منتظمین اس کیلئے ساما لے آئیں۔جھنڈا نصب کرنے کے متعلق بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کانگرس کی رسم ہے۔لیکن اس طرح تو بہت ہی رسمیں کانگریس کی نقل قرار دینی پڑیں گی۔کانگریسی جلسے بھی کرتے ہیں۔اس لئے یہ جلسہ بھی کانگریس کی نقل ہوگی۔گاندھی جی دودھ پیتے تھے۔دودھ پینا بھی ان کی نقل ہوگی۔اور اس اصل کو پھیلاتے پھیلاتے یہاں تک پھیلانا پڑیگا کہ مسلمان بہت سی اچھی باتوں سے محروم رہ جائیں گے حقیقت یہ ہے کہ یہ کانگریس کی نقل نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود جھنڈا باندھا۔اور فرمایا کہ یہ میں اسے دوں گا۔جو اس کا حق ادا کرے گا۔پس یہ کہنا کہ بہ بدعت ہے۔تاریخ اسلام سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔جھنڈا لہرانا ناجائز نہیں۔ہاں البتہ اس ساری تقریب میں میں ایک بات کو برداشت نہیں کر سکا۔اور وہ ایڈریسیوں کا چاندی کے خولوں وغیرہ میں پیش کرنا ہے۔اور چاہے آپ لوگوں کو تکلیف ہو۔میں حکم دیتا ہوں کہ ان سب کو بیچ کر قیمت جو بلی فنڈ میں دے دیجائے۔پس جھنڈا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔اور لڑائی وغیرہ کے مواقع پر اس کی ضرورت ہوتی ہے۔کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے تو جہاد سے ہی منع کر دیا ہے۔پھر جھنڈے کی کیا ضرورت ہے۔مگر میں کہوں گا۔کہ اگر لوہے کی تلوار کے ساتھ بہاد کرنے والوں کے لئے جھنڈا ضروری ہے۔تو قرآن کی تلوار سے لڑنے والوں کے لئے کیوں نہیں ؟ اگر اب ہم لوگ کوئی جھنڈا معتین نہ کریں گئے۔تو بعد میں آنے والے ناراض ہونگے۔اور کہیں گے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ ہی جھنڈا بنا جاتے توکیا اچھا ہوتا۔میں نے حضرت سیح موعود علیہ السلام کے منہ سے ایک مجلس مین یہ سُنا ہے کہ ہمارا ایک جھنڈا ہونا چاہیئے۔جھنڈا لوگوں کے جمع ہونے کی ظاہر کی علامت ہے۔اور اس سے نوجوانوں کے دلوں میں ایک ولولہ پیدا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علی اسلام نے فرمایا ہے کہ " لوائے یا پتہ ہر سعید خواهد بود " یعنی میرے جھنڈے کی پناہ بہر سعید کو حاصل ہوگی۔اور اس لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ ہم اپنا جھنڈا نصب کریں۔تا سعید روحیں اس کے نیچے آکر پناہ لیں۔یہ ظاہری نشان بھی بہت اہم چیزیں ہوتی ہیں۔جنگ جمل میں حضرت عائشہ رضہ ایک اونٹ پر سوار تھیں۔دشمن نے فیصلہ کیا کہ اونٹ کی ٹانگیں کاٹ دیجائیں تا آپ نیچے گر جائیں۔اور آپ کے ساتھی لڑائی بند کر دیں لیکن جب آپ کے ساتھ والے صحابہ نے دیکھا۔کہ اس طرح آپ گر جائیں گی۔تو گو آپ دین کا ستون نہ تھیں مگر بہر حال رسول کریم