تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 628 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 628

دیکھیں گے کسی یونیورسٹی کا نسٹ سیکنڈ اور تھرڈ رہنے والا طالب علم بھی اسے حاصل کرسکے گا۔اوراگر کسی کی یونیورسٹی کا کوئی احمدی طالب علم یہ امتیاز حاصل نہ کر سکے۔تو جس کے بھی سب سے زیادہ نمبر ہوں۔اُسے یہ وظیفہ دے دیا جائے گا۔انگلستان با امریکہ میں حصول تعلیم کے لئے ہو وظیفہ مقدر ہے۔اس کے لئے ہم سارے ملک میں اعلان کر کے جو بھی مقابلہ میں شامل ہونا چا ہیں۔ان کا امتحان لیں گے۔اور ہو بھی کسٹ رہے گا۔اُسے یہ وظیفہ دیا جائے گا۔یزکیھنڈ کے ایک معنے ادای حالت سے اعلیٰ کی طرف لے جانے کے بھی ہیں۔اور اس طرح اس میں اقتصادی ترقی بھی شامل ہے۔اس کی فی الحال کوئی سیکیم میرے ذہن میں نہیں۔مگر میرا ارادہ ہے کہ انڈسٹریل تعلیم کا کوئی معقول انتظام بھی کیا جائے۔تا پیشہ وروں کی حالت بھی بہتر ہو سکے۔اسی طرح ایگری کلیوں تعلیم کا بھی ہو۔تاز میداروں کی حالت بھی درست ہو سکے۔خلفاء کا ایک کام میں سمجھتا ہوں۔اس شہد کا استحکام بھی ہے۔میری خلافت پر شروع سے ہی پیغامیوں کا صلہ چلا آ تا ہے۔مگر ہم نے اس کے مقابلہ ے لئے کماحقہ توجہ نہیں کی۔شروع میں اسے تعلق کچھ لٹریچرمیدا کیا تھا۔مگراب وہ ختم ہوچکا ہے۔پس اس فنڈ سے اس قوم کی ہدایت کے لئے بھی جدوجہد کی جانی چاہیئے۔اور اسکے لئے بھی کوئی سکیم میں تجویز کروں گا۔ہماری جماعت میں بعض لوگ اچھا لکھتے ہیں۔میں نے الفضل میں ان کے مضامین پڑھتے ہیں۔ان سے فائدہ اٹھانے کی کوئی صورت کی جائے گی۔پس یہ خلفاء کے چار کام ہیں۔اور انہی پر یہ روپیہ خرچ کیا جائیگا۔پہلے اسے کسی نفع مند کام میں نگا کریم اسی آمد کی صورت پیدا کریں گے۔اور پھر اس آمد سے یہ کام شروع کریں گے۔ایک تو ایسا اصولی لٹریچر شائع کریں گے کہ جب سے ہندو سکھ اسلامی اصول سے آگاہی حاصل کر سکیں۔اب تک ہم نے ان کی طرف پوری طرح توجہ نہیں کی۔حالانکہ حضرت سیح موعود علیہ السلام کے بعض الہامات سے پتہ لگتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے بھی ہدایت مقدر ہے۔مثلاً آپ کا ایک الہام ہے۔تراریوں کا بادشاہ " ایک ہے۔جے سنگھ بہا در اسے ڈوگر گوپال تیری مہم گیت میں ہے۔مگر ہم نے ابھی تک ان کی طرف کوئی توجہ نہیں کی پس اب ان کیلئے لٹریچر شائع کر نا چاہیئے۔میں چاہتا ہوں کہ یہ اتنا مختصر ہو۔کہ اسے لاکھوں کی تعداد میں شائع کر سکیں۔پھر ایک حصہ مسلمانوں میں تبلیغ پر خرچ کیا جائے۔ایک آرٹ۔سائنس انڈسٹری حضر نظام اور زراعت و غیرہ کی تعلیم پر اور سلسل پر دشمنوں کے محلہ کے مقابلہ کیلئے۔آیت آہستہ کوشش وغیرہ پر کی جائے۔کہ اس کی آمد میں اضافہ ہوتا رہے۔اور پھر اس آمد سے یہ کام چلائے جائیں۔اس روپیہ کو خرچ