تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 626 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 626

۶۰۱ یہ سلسلہ پہلے ہندوستان میں اور پھر بیرونی ممالک میں شروع کیا جائے۔اور اس غرض سے ایک تھا ریا آٹھ صفحہ کا ٹریٹ لکھا جائے جسے لاکھوں کی تعداد میں ہندوستان کی مختلف زبانوں میں چھپوا کر شائع کیا جائے۔اس وقت تک ان زبانوں میں تبلیغی لٹریچر کافی تعداد میں شائع نہیں ہوا۔اردو کے بعد میرا خیال ہے۔رہے زیادہ اس ٹریکیٹ کی اشاعت ہند میں ہونی چاہیئے۔ابھی تک یہ سکیم میں نے مل نہیں کی۔فوری طور پر اس کا خاکہ ہی میرے ذہن میں آیا ہے۔میں چاہتا ہوں۔کہ کم سے کم ایک لاکھ اشتہار یا مینڈیل دیر اذان اور نمازہ کی حقیقت اور فضیلت پر شائع کئے جائیں۔تاہندوؤں کو سمجھایا جا سکے۔کہ جس وقت آپ لوگ مساجد کے سامنے سے باجہ بجاتے ہوئے گزرتے ہیں۔تو مسلمان یہ کہہ رہے ہوتے ہیں۔یہ بات معقول رنگ میں ان کے سامنے پیش کی جائے۔کہ مسلمان تو یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔اور آپ اس وقت ڈھول کے ساتھ ڈم ڈم کا شور کرتے ہیں۔آپ سوچیں کہ کیا یہ وقت اس طرح شور کرنے کے لئے مناسب ہوتا ہے۔جب یہ آواز بلند ہو رہی ہو۔کہ خدا تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔تو اس وقت چپ ہو جانا چاہئے یا ڈھول اور باجہ کے ساتھ شور مچانا چاہیئے۔تو ان کو ضرور سمجھ آ جائے گی۔مگر ان کی صد بے جا ہے۔اور اس طرح استی ہندو مسلمانوں میں صلح واتحاد کا دروازہ بھی کھل جائے گا تعلیم یافتہ غیرمسلم اب بھی ان باتوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔اس طرح میں نے جلسہ ہائے سیرت کی جو تحریک شروع کی ہوتی ہے۔اُسے بھی وسعت دینی چاہئیے۔یہ بھی بہت سفید تحریک ہے۔اور سیاسی لیڈر بھی اسے تسلیم کرتے ہیں۔بابو بینین چندر پال کانگرس کے بہت بڑے لیڈروں میں سے ہیں۔انہوں نے ان جلسوں کے متعلق کہا تھا۔کہ ہندومسلم اتحاد کے لئے بہترین تجویز ہے۔اور میں ان ملبوں کو سیاسی جلسے کہتا ہوں۔اسلئے کہ ان کے نتیجہ میں ہندو مسلم ایک ہو جائیں گے۔اور اس طرح دونوں قوموں میں اتحاد کا درد از مکمل جائے گا۔میرا ارادہ ہے۔کہ ایسے اشتہار ایک لاکھ مہندی ہیں۔ایک لاکھ گورمکھی میں پچاس ہزار تامل میں۔اور اسی طرح مختلف زبانوں میں بکثرت شائع کئے جائیں۔اور ملک کے ایک سیر سے دوسرے گہرے تک اسلام سنکے موٹے موٹے مسائل غیرمسلموں تک پہنچا دیئے جائیں۔اشتہار ایک صفحہ در صفحه یا زیادہ سے زیادہ چار صفحہ کا ہو۔اور کوشش کی جائے۔کہ ہر شخص تک اسے پہنچا دیا جائے۔اور زیادہ نہیں تو ہندوستان کے ۳۳ کر در باشندوں میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایک اشتہار پہنچ جائے۔یہ اسلام کی بہت بڑی خدمت ہوگی راسی طرح میرا ارادہ ہے۔کہ ایک چھوٹا سا مضمون چار یا آٹھ صفحات کا مسلمانوں کیلئے لکھ کر ایک لاکھ