تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 614 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 614

نشانوں اور حضور کی قیادت میں جماعت کی قربانیاں اور دینی سرگرمیوں سے معمور ہے۔ہمارے لئے خوشی کی عید کو مکن اور جائز کر دیا ہے۔یہ خوشی حقیقتاً حضور کی خوشی ہے۔کیونکہ اس پچیس سالہ دور میں جو شاندار ترقیات جماعت کو نصیب ہوئی ہیں۔اور جو خدمت حضور نے رضائے انہی اور اعلائے کلمۃ اللہ کی سر انجام دی ہے۔حقیقتاً حضور ہی کے انفاس قدسیہ کی برکت سے ہے۔گر خادم اپنے آقا سے الگ نہیں۔ور در اصل آقا کی عید بھی زیادم کی حقیقی عید ہوتی ہے۔سید نا حضور کی تربیت کے ماتحت ہمارے دلوں میں اس بات کا پورا پورا احساس ہے کہ اسلامی عید دو پہلو رکھتی ہے۔ایک یہ کہ بندہ اس توفیق پر جو خدا تعالٰی نے اُسے ماضی میں خدمت اور قربانی کی عطاء فرمائی۔اپنے دل میں ایک غیر معمولی خوشی محسوس کرتا ہے۔اور دوسرے یہ کہ وہ اس احساس کو آئندہ کی خدمات اور قربانیوں کے لئے اپنے دل میں ایک بیج کے طور پر جگہ دیتا ہے۔اور یہ بیج اس طرح سے ایک عہد کا رنگ رکھتا ہے کہ وہ آئندہ اپنے خالق و مالک کے رستہ میں بیش از پیش قربانی اور خدمت کا نمونہ دکھا ئیگا پس جہاں ہم گذشتہ پر حضور کی خدمت میں مبارکباد عرض کرتے ہیں۔وہاں آئندہ کے متعلق حضور سے یہ درخواست بھی کرتے ہیں کہ حضور دعا فرمائیں کہ جماعت کی تاریخ کا ابتدائی پچاس سالہ دور اور حضور کی خلافت کا پچیس سالہ زمانہ جماعت کی آئندہ قربانیوں اور ترقیات کیلئے بطور ایک بیج کے ہو جائے اور آئندہ ترقیات کے ساتھ اسکی وہی نسبت ہو۔جو ایک چھوٹے سے بیج کو ایک شاندار درخت کے ساتھ ہوا کرتی ہے۔ستید ناب اس مبارک تقریب پر جو جذبات عشق و وفا ہمارے دلوں میں اس وقت موجون میں ہم الفاظ میں اُنکے اظہار کی طاقت نہیں پاتے۔2 قلم را آن زبان نبود که ستر عشق گوید باز : درائے محمد تقریر است شرح آرزومندی لیکن ہمارے قلوب کی کیفیت کا اندازہ مشخص کر سکتا ہے کہ جس کی آنکھوں کے سامنے ایک طرف اُس حالت کی تصویر موجود ہو۔جو آج سے پچیس سال قبل جماعت کی تھی۔اور دوسری طرف اُسکے سامنے اس حالت کی تصویر بھی موجود ہو۔جو خدا کے فضل سے آج جماعت کی ہے۔اور وہ ان خطرا سے بھی واقف ہور ہو اس عرصہ میں جماعت کو پے در پے پیش آتے رہے ہیں۔اور ان دعاؤں اور قربانیوں سے بھی آگاہی رکھتا ہو۔جو حضور نے اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے اور احمدی کے مزار نازک پودے کی حفاظت اور آبپاشی کی خاط فرمائیں۔سیدنا ان پچیس سالہ دور میں کوئی دن بلکہ کوئی لحظہ جماعت پر ایسا نہیں گزرا۔کہ جس میں وہ حضور کی قیات