تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 613 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 613

۵۸۸ مو به سر حدا احمدیوں کا سپاستان به تمام ایڈریس روئیداد جلسہ خلافت جو بلی میں شائع شدہ ہیں۔جن کا نقل کرنا غیر ضروری بھی ہے اور باعث طوالت بھی۔اس لئے بطور نمونہ صوبہ سرحد اور مہندوستان کے احمدیوں کے ایڈریس درج کرنے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔"بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ * نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِمُ والسلام على أحمد المسيح الموعود سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفة المسیح ایک اللہ بنصرہ العزیز - ہم احمدیان صوبہ سرحد (بجو ہندوستان کے شمال مغرب میں رہتے ہیں، آج اس جگہ حاضر ہو کر حضور کی خلافت جوبلی یا خلافت ثانیہ پر پچیس سال کا زمانہ دراز گزارنے پر جو کامیابی اور کامرانی سے گذرا۔خدا کا شکر بجالاتے ہیں۔اور حضور کو نہ دل سے مبارکبا د عرض کرتے ہیں یہ بے شک وہ قابل ستائش ہے جس نے حضور کو اس دوران میں نہ صرف سلسلہ کے اندرونی فتنوں اور سازشوں کی سرکوبی کا موقعہ بخشا۔بلکہ سلسلہ کے باہر دنیا میں بھی اسکی عزت اور وقار کو قائم کیا۔اور حضرت احمد کے نام اور پیغام کو زمین کے کناروں تک پہنچانے میں با مُراد کیا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ ل ر اس تقریب پر ہندوستان کے احمدیوں کی طرف سے خلافت جمعت احمدیہ بند توان کا پاکستان و بل کے محرک حضرت چو ہدری محمد ظفراشد خان صاحب نے جو چوہدری الدخان مندرجہ ذیل سپاس نامہ پڑھ کر سنایا :- "بسم الله الرحمن الرحيم : نحمده ونصلى على رسوله الكريم ایڈریس بخدمت حضرت امیر المومنین خلیفه اسبح ثانی ایده الله بنصرہ العزیز منجانب جماعت تہا ئے احمد یہ مہند وستان تقریب خلافت جو بلی انسان سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفه وبرکاته یہ خاکسار حضور کی خدمت میں اس نہایت مبارک اور پر از مسترت تقریب پر جب کہ حضور اپنے ہی خلافت کے پچیس سال پورے فرما رہے ہیں۔جماعتہائے احمدیہ ہندوستان کیطرف سے دلی مبارکباد پیش کرتا ہے۔سید نا ؟ ہمارے لئے یہ خوشی کا دن حقیقت ایک عید کا دن ہے۔کیونکہ جس طرح اسلام کی عیدیں عبادتوں اور ولی قربانیوں کے بعد منائی جاتی ہیں۔اسی طرح حضور کی خلافت کے پچیس سالہ زمانہ نے جو خدا کی نصرتوں اور ا سکے نے روئیداد جلسه جوبلی ۲۶۰