تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 589 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 589

۵۶۶ بر ہ دیں وارد قادیان ہوئے۔اور حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی کے دست مبارک پر بعیت کر کے احمدیت میں داخل ہونے کا شرف حاصل کیا۔حاجی صاحب موصوف کی اپنے وطن سے روانگی ایسے موسم میں ہوئی۔جب برف پگھلنی شروع ہوگئی تھی۔آپ پیدل چلتے ہوئے کئی بار گلے تک بہت میں دھنس گئے۔ان خطرات اور مصار کے علاوہ کئی ماہ کے اس لمبے سفر کے اخراجات اور براہداری اور پاسپوٹ کے ملنے میں تکالیف کو برداشت کر کے اللہتعالیٰ کے رحم و کرم سے آخر منزل مقصود تک پہنچے گے عابھی صاحب کے ساتھ ان کی معر والدہ اور ہمشیرہ بھی آنا چاہتی تھیں لیکن پاسپورٹ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے لوگ گئیں۔حاجی صاحب کے وارد قادیان ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا۔اور حضرت امیر المومنین کی دعاؤں کی برکت سے ان کو بھی پاسپورٹ مل گیا۔اور وہ بھی مر اکتوبر کو ایک دوسرے قافلہ کے ہمراہ قادیان کیلئے روانہ ہوگئیں۔اور بذریعہ تر اپنی روانگی کی اطلاع حاجی صاحب کو دی۔اس پر ھا جی صاحب قادیان سے براہ کشمیر گلگت کی طرف روانہ ہو گئے۔حاجی صاحب قادیان سے گلگت تک چودہ پندرہ روز کا سفر آٹھ نوروز میں طے کر کے پہنچے۔تو معلوم ہوا کہ آپ کی والدہ و ہمشیرہ کہ ایر کشوں کی سستی اور غفلت کے باعث ترکستان سے آنیوالے پہلے قافلہ سے رہ گئی ہیں۔اس بات کے معلوم ہونے پر آپ گلگت سے روانہ ہو گئے۔تیسری منزل طے کر رہے تھے کہ راستہ میں آپ کو وہ دوسرا قافلہ کا جس میں آپ کی والدہ اور ہمشیرہ سفر کر رہی تھیں۔حاجی صاح بیان کرتے ہیں۔کہ جس وقت اس قافلہ کوئیں نے دیکھا تو خیال کیا کہ ممکن ہے۔یہ وہی قافلہ ہو یوں کہیے ہمراہ میری والدہ اور ہمشیرہ آرہی ہیں۔اور جب آپنے قافلہ کے افراد پر نگاہ ڈالی۔تو پہاڑ کی چوٹی پہ دو سیاہ برقعہ پوش سوار نظر آئے۔جن کے گھوڑوں کی نگا میں دو کرا یہ کشوں نے تھامی ہوئی تھیں۔قافلہ کے نزدیک پہنچنے پر جب انہوں نے دریافت کیا۔تو معلوم ہوا کہ واقعی ان کی والدہ اور ہمشیرہ ہی ہیں۔یہ میر درد کی تاریخ اور عید الفطر ا مبارک دن تھا۔مگر جب آپ گلگت پہنچے تومعلوم ہوا کہ کشمیر کی طرف جانے کا راستہ برف باری کی وجہ سے بند ہو چکا ہے۔اپنے گلگت میں دس روز تمام کیا اور ال بعد اپنی والدہ و ہمیشہ و کولے کو گیارہ دن میں چترال پہنچے۔یہ تمام سفر بھی گھوڑوں پر کیا گیا۔چترال میں پانچ چھ روز ٹھہرنے کے بعد بذریعہ لاری مالا کنڈا اور ڈرگئی کی طرف چل پڑے۔اور عجب اشرت نام ایک پڑاؤ تک پہنچے تو پشاور کی طرف سے آنیوالے ایک سرکاری افسر سے معلوم