تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 579
۵۵۶ اس طرح ان پر چھا جانے کا خیال عربوں کے لئے نہایت خوفناک ہے۔اور وہ اسے کبھی برداشت نہیں کر سکتے۔جو نمائندے یہاں آئے ہوئے ہیں۔ان کو اور حکومت کو چاہیے کہ اس مسئلہ پر اخلاص اور غیر جانبدارانہ تنگ میں غور کریں۔اور اس کا کوئی حل تلاش کریں۔کیونکہ اگر آج اس کا کوئی حل نہ ملا تو پھر کبھی نہیں ملے گا۔اس موقعہ پر بہت سے معززین جمع تھے مسلمان۔ہندو۔عیسائی۔غرض کہ ہر قوم کے مرد و عورتیں موجود تھیں۔حاضرین میں سے سرٹیلفورڈ واڈ اور سرفنڈ لیٹر سٹوارٹ میجر جنرل جے ایچ بیتھے۔سر آمر تھر دا د کوپ (سابق ہائی کمشنر فلسطین کا ؤنٹس کارلائل - ریورنڈ ایس ایکسن - ریو رینڈ سٹر سٹیونس ڈاکٹر دوس ہا تھ لی اور کیپٹن عطاء اللہ آئی ایم ایس شامل تھے۔لے ب احمدیہ انٹڈ میں شہزادہ امینی امید کے بند و بعد برطانوی حکم نے ماہ فروری کشور مسجد لندن ی میں قضیہ فلسطین کے تعلق میں جب عربی ممالک کی ایک (مملکت کے موجودہ سربراہ) اور دیگر عرب نمائندہ کانفرنس کا انعقاد کیا تو وہ نا جلال الدین صاحب موں ممالک کے نمائندوں کی تشریف آور کی شمس امام مسجد لنڈن نے اس اجتماع کو غنیمت سمجھتے ہوئے مکہ مکرمہ کے وائسرائے اور فلسطین - عراق - یمین کے نمائندوں کے اعزاز میں ایک پارٹی دی مہمیں شہزادہ امیر فیصل اور شیخ ابراہیم سلیمان رئيس النيابة العامہ اور شیخ حافظ وہیہ اور عونی بیک الہادی اور القاضی علی العمری اور القاضی محمد الشامی وغیرہ مندوبین کا نفرنس کے علاوہ لنڈن کے اکابر اور ریٹائرڈ افسران مختلف ممالک کے کچھ سفراء اور پارلیمینٹ کے ممبر اور نائٹ جو نیل میچر۔اور بڑے بڑے عہدیدار اور اہل منصب اور معزز ہندوستانیوں میں ہائی کمشنر فار انڈیا۔سردار بہادر موہن سنگھ آف رحمہ کونسل فار انڈیا ، وغیرہ دو سو کے قریم بنانے شامل ہوئے۔اس تقریب پر حضرت امیرالمومنین نی نے امیر فیصل اور دو سر غرب نمائندگان کے نام بذریعہ تاریه تی مندرجہ ذیل پیغام بھیجا۔دہو ہوں نا شتی صاحب نے عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں سنایا۔را ولپنڈی رحمہ میری طرف سے ہر رائل نیس امیر فصیل اور فلسطین کا نفرنس کے ڈیلیگیٹوں کو خوش آمدید کہیں اور ان کو بتا دیں کہ جماعت احمدیہ کامل طور پر ان کے ساتھ ہے۔اور دعا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو کامیابی عطا کرے۔اور تمام عرب ممالک کو کامیابی کی راہ پر چلائے۔اور ان کو مسلم ورلڈ کی لیڈر نہ ٹھاکر ہے۔تر می خواله الفضل به مادر ۱۹۳۹ء ص :