تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 576 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 576

Dor چھٹا باب قضیہ فلسطین میں عربوں کی پرزور حمایت سے لیکر خلافت جوبلی کے جلست تک خلافت ثانیہ کا چھبیسواں سال ذی قعده ۱۳۵۷ تا ذی قعده ۱۳۵۸ جنوری ۱۹۳۹ ء دسمبر ۶۱۹۳۹ م فلسطین کا پس منظر فلسطین کو یہودیت کا مرکز بنانے کی موجودہ تحریک انیسویں صدی کے آخر شد کا پس منظر میں شروع ہوئی۔اس سال ہر زل نے عالمی صیہونی انجن کی بنیاد ڈالی۔اور بیل کے مقام پر طے پایا کہ فلسطین میں یہودیوں کا ایک وطن بنایا جائے میہونی تحریک کے لیڈروں نے پہلے تو سلمان ترکی کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ یہودی وطن کے قیام کی اجازت دی جائے مگر ترکی حکومت نے انکار کردیا۔سادہ میں حکومت برطانیہ نے تجویز پیش کی کہ یہودی کینیا (افریقہ کو اپناوطن بنالیں۔لیکن یہودی رضامند نہ ہوئے۔۱۹۱ ء میں جب پہلی عالمگیر جنگ چھڑی تو یہودیوں نے جرمنی اور برطانیہ دونوں سے جوڑ توڑ شروع کردئے۔جنگ عظیم کے دوران حالات نے پلٹا کھایا۔ترک جنگ میں اتحادیوں کے خلاف جرمنی کا ساتھ دے رہے تھے۔ادھر برطانیہ کو عربوں کی جو اس وقت ترکی حکومت سے مطمئن نہ تھے ) ضرورت محسوس ہوئی۔انگریزی نے حسین شریف مکہ کو پیغام بھیجا کہ اگر فلسطین کے عربوں نے جنگ میں ان کا ساتھ دیا۔تو ترکوں کے عربی مقوفات آزاد کر دیئے جائیں گے۔ان مقبوضات میں فلسطین بھی شامل تھا۔عرب برطانیہ کے داؤ میں آگئے اور انہوں نے اسے منظور کرلیا۔اور جنگ میں ترکوں کے خلاف برسر پیکار ہو گئے۔کرنل لارنس کی زیر ہدایت اور عربوں کی مادرد سے جنرل این بی نے دو میں ترکوں کو شکست دیکر یروشلم پر قبضہ کر یا میہونی تحریک کے لیڈر بھی خاموش نہیں بیٹھے تھے۔فلسطین کو اپنا قومی گھر بنانے کی پرانی خوامش از مسیر تو تازہ ہو گئی۔اور مرجنگ کے مصارف کی وجہ سے انگریزوں کو یہودی سرمایہ کی سخت ضرورت تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ اسی سال برطانوی وزیر امورخارجه LARD) اور یہودی لیڈر لارڈ رو سچائیلڈ (D لارڈ بالفور ( RD BAL FOUR CHILD), (LORD ROTH S