تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 527
۵۱۰ قادیان سے مبئی تک حضرت اقدس ادیان سے بدید این راکتور کون پہنچے اور انجانده کا معائنہ فرمانے اور ضروری ہدایات دینے کے بعد ۱۲۳ اکتوبر تار کو لاہور میل سے کراچی وارد ہوئے اور اسی روز بحری جہاز سے روانہ ہو کہ 9 اکتوبر کو بھی اپنے بندگی این احمدیہ بیٹی نے اپنے ایرر سلیم النخیل آدم صاحب اور مقامی مبلغ مولانا ابو العطار صاحب کی قیادت میں حضور کا پر تپاک خیر مقدم کیا۔بمبئی میں اس وقت امیر جماعت حضرت کینہ اسمعیل آدم صاحب تھے اور انہوں نے ہی ایک محلہ میں رہائش کے لئے ایک بالاخانہ کرایہ پر حاصل کیا تھا حضور پہلے روز بارہ بجے رات تک مجلس میں نماز مغرب و عشار جمع کرنے کے بعد گفتگو فرماتے رہے۔اس میں ایک سابق گورنر پنجاب سرا میرسن کا واقعہ بھی بیان فرمایا تھا جو کہ حضور کے وصال کے بعد اخبار بدر میں ملک صلاح الدین صاحب ایم اے کے ایک مضمون میں شائع ہو چکا ہے۔وہاں حضرت سیٹھ صاحب نے اپنے مکان پر حضور اور حضور کے رفقاء کی دعوت بھی فرمائی تھی۔حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کی بھتیجی بھٹی میں ہی مقیم تھیں۔ان کے خاندان نے دعوت کی۔جائے قیام سے غالباً دس بارہ میل دور ان کی جائے رہائش تھی۔وہ موٹروں میں سلسلے قافلہ کو اپنے ہاں لے گئے۔جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے کا بیان ہے کہ ہملٹی میں حضور نے ایک بار خود ہی ایک ہوائی جہاز کے پانچ ٹکٹ خرید کئے پچار اپنے خاندان کے لئے اور ایک میرے لئے۔وہاں ایسے ہوائی جہاز کا انتظام غالباً کسی کمپنی کی طرف سے تھا جو مختصر وقت میں کمیٹی کی سیر کراتی تھی۔صرف پانچ ہی سیٹیں اس میں تھیں۔میں ہوا باز کے پاس کی سیٹ پر تھا اور حضور اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ پیچھے تشریف فرما تھے۔تیو صد پچاس فٹ تک جہاز نے اڑان کی تھی اور نصف گھنٹہ کے قریب صرف ہوا تھا ہوئی اڈہ تک اور واپسی پر کرم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی اور مکرم مولوی ابو العطاء صاحب (جو اس وقت بھیٹی کے مبلغ تھے ساتھ تھے " ہے حضور چند دن تک بیٹی میں فروکش رہنے کے بعد بذریعہ ریل ۱۹ اکتوبر حید آباد دکن میں آمد اور مصروفیات ہ کو بوقت دو پر روانہ ہوکر ۱۲۰ اکتوبر ۱۹۳۵مه بروز پنجشنبه الفضل" هر اکتوبر انه صفر ۲ کالم را۔کے الفصل 14 اکتوبر ۱۹۳۵ء صفحه ۲ کالم ها به ے" الفضل و در اکتوبر سه صفحه ا کالم او +1 کان مکتوب ملک صلاح الدین صاحب ایم اسے بنام مولف بحرہ 10 جولائی تا ہے +