تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 523
۵۰۶ سامنے پیش کئے جائیں اور ہم اس بارہ میں اپنا فیصلہ نافذ کریں۔تو اگلے لوگ بہت سی گمراہیوں سے نچ بھائیں گے کیونکہ ان کے سامنے وہ فیصلے ہوں گے جو صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متفقہ ہوں گے یا ایسے فیصلے ہوں گے جین پر صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اکثریت کا اتفاق ہوگا۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں سے کوئی مسئلہ صاف ہو جائے تو پھر صحابہ کے فیصلوں کی ضرورت نہیں لیکن اگر کتابوں میں کوئی بات وضاحت سے نہ ملے۔یا اختلاف ہو جائے۔تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کی روایات اور ان کے ان تاثرات کو دیکھنا پڑے گا۔جو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے رکھتے چلے آرہے ہیں اور جو سنت کے قائم مقام ہیں " سے پھر فرمایا :- " حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کی عادت تھی کہ آپ دن کو جو کچھ لکھتے ، دن اور شام کی مجلس میں آکر بیان کر دیتے۔اس لئے آپ کی تمام کتا ہیں ہم کو فظ ہیں۔اور ہم ان مطالب کے خوب سمجھتے ہیں۔جو حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے منشاء اور آپ کی تعلیم کے مطابق ہوں۔بیشک لبعض باتیں ایسی بھی ہیں جو صرف اشارہ کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔تفصیلات کا اُن میں ذکر نہیں۔اور اُن باتوں کے متعلق ہمیں ان دوسرے لوگوں سے پوچھنا پڑتا ہے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت اُٹھائی ہے۔اور اگر اُن سے بھی کسی بات کا علم حاصل نہیں ہوتا تو پھر ہم قیاس کرتے اور اس علم سے کام لیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بخشتا ہے۔مگر باوجود اس کے میرا اپنا طریق یہی ہے کہ اگر مجھے کسی بات کے متعلق یہ معلوم ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی کوئی تحریہ اس کے خلاف ہے تو میں فوراً اپنی بات کو رو کر دیتا ہوں۔اسی مسجد میں نہ یا شلہ کے درس القرآن کے موقع پر میں نے عرش کے متعلق ایک نوٹ دوستوں کی لکھوایا۔جو اچھا خاصہ لیا تھا۔مگر جب میں وہ تمام نوٹ لکھوا چکا تو شیخ یعقوب علی صاحب عرف یا حافظ روشن علی صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک حوالہ نکال کر میرے سامنے پیش کیا اور کہا کہ آپ نے تو یوں لکھوایا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یوں فرمایا ہے۔میں نے اس حوالہ کو دیکھ کہ اسی وقت دوستوں سے کہدیا کہ میں نے عرش کے متعلق آپ لوگوں کو ہو کچھ لکھوایا ہے وہ غلط ہے اور اُسے اپنی کا پہیوں میں سے کاٹ ڈالیں، چنانچہ جو لوگ اس وقت الفضول ستمبر ۳۷ ۶ صفحه ۱۵۰ کالم ۲-۳ :