تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 464
ان ابتدائی مراحل سے گھورنے کے بعدی اور خدام الاحمدیہ کا متقل الحد عمل حسب ذیل قرار پایا اور اسی کے مطابق کا ذیل مجلس کا کام بھی مختلف شعبوں میں تقسیم کیا گیا۔ا سلسلہ عالیہ احمدیہ کے نوجوانوں کی تنظیم۔۲۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کے نوجوانوں میں قومی روح اور ایثار پیدا کرنا۔۳ - اسلامی تعلیم کی ترویج واشاعت۔۴- نوجوانوں میں ہاتھ سے کام کرنے اور صاف ماحول میں رہنے کی عادت پیدا کرنا۔نوجوانوں میں مستقل مزاجی پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔۵ 4 - نوجوانوں کی ذہانت کو تیز کرنا۔L - نوجوانوں کو قومی بوجھ اٹھانے کے قابل بنانے کیلئے ان کی ورزش جسمانی کا اہتمام۔A - نوجوانوں کو اسلامی اخلاق میں رنگین کرنا (مثلا) سچ۔ریاست اور پانباری نماز و غیره ) ۹ - قوم کے بچوں کی اس رنگ میں تربیت اور نگرانی کہ ان کی آئندہ زندگیاں قوم کے لئے مفید ثابت ہوسکیں۔۱۰ - نوجوانوں کو مساعد کے کاموں میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی لینے کی ترغیب و تحریص۔11۔نوجوانوں میں خادمرت خلق کا جذید ۱۲ - نوجوانان سلسلہ کی بہتری کے لئے حتی الوسع ہر مفید بات کو جامد عمل پہنانا۔جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے پہلے سال کی صدارت کے لئے مولانا قمر الدین صاحب اور سیکرٹری شپ کے نئے شیخ محبوب عالم صاحب خالد کا انتخاب ہوا اور چند باربی خلیل احمد صاحب ناصر نائب سیکرٹری مقرر ہوئے۔نوبر ۱۹۳۷ ء میں سیکرٹری شپ کے فرائض چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر کے سپرد ہوئے اور اسسٹنٹ سیکرٹری سید مختار احمد صاحب ہاشمی منتخب ہوئے اور رضا کارانہ طور پر شتری فرائض بجالانے لگے۔عهده دار این مرکز بید دوسرے سال انتخاب میں حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب کے نام صدارت کا قرعہ پڑا۔اور چو ہدری خلیل احمد صاحب ناصر سکریٹری تجویز کئے گئے۔قادیان میں مجلس خدام الاحمدیہ کا پہلا مرکزی دستر چو ہدر ی علی محمد صاحب کے مکان میں ( متصل رہتی پھیلہ)