تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 463
۴۴۸ اگرد دست چاہتے ہیں کہ وہ تحریک جدید کو کامیاب بنائیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ جس طرح ہر جگہ نجمات الماء اللہ قائم ہیں اسی طرح ہر جگہ نوجوانوں کی انجمنیں قائم کریں۔قادیان میں بعض نوجوانوں کے دل میں اس قسم کا خیال پیدا ہوا تو انہوں نے مجھ سے اجازت حاصل کرتے ہوئے ایک معلم خدام الا جمیہ کے نام سے قائم کر دی ہے۔۔۔میں نے خاص طور پر انہیں یہ ہدایت دی ہے کہ جن لوگوں کی شخصیتیں نمایاں ہو چکی ہیں ان کو اپنے اندر شامل نہ کیا جائے گا انہیں خود کام کرنے کا موقعہ ملے ہاں دوسرے درجہ یا تیرے درجہ کے لوگوں کو شامل کیا جاسکتا ہے تا انہیں خود کام کرنے کی مشق ہو اور قومی کاموں کو سمجھ سکیں اور انہیں سنبھال سکیں۔چنانچہ میں نے دیکھا ہے کہ اس دشت تک نہوں نے جو کام کیا ہے اچھا کیا ہے اور محنت سے کیا ہے۔۔۔۔۔۔شروع میں وہ بہت گھبرا انہوں نے ادھر ادھر سے کتابیں ہیں اور پڑھیں اور لوگوں سے دریافت کیا کہ فلاں بات کا کیا جواب دیں مضمون لکھے اور بار بار کاٹے مگر جب مضمون تیار ہوگئے اور انہوں نے شائع کئے تو وہ نہایت اعلی درجہ کے تھے میلے " " اپریل ء میں حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی نے مسلسل خطبات کے ذریعہ قادیان اور باہر کی جماعتوں میں اس مجلس کے قیام کا ارشاد فرمایا۔قبل ازیں مجلس کا کام صرف علمی حد تک تھا۔مگر اب اس کا پروگرام مندرجہ ذیل تجویز ہوا۔ا۔اپنے ہا تھ سے روزانہ اجتماعی صورت میں آدھے گھنٹڈ کام کرنا۔-۲- درس و تدریس - - تلقین پابندی نماز ہم بیوگان معذوروں اور مریضوں کی خبر گیری۔۵ تکفین و تدفین اور تقاریب میں امداد و غیره اس بنیادی پروگرام کے ساتھ ساتھ حضرت امیر المومنین نے جماعت کے نوجوانوں کو انسداد آوارہ گردی اور فریضہ تبلیغ کی ادائیگی کی طرف بھی متوجہ فرمایات ١٩٣٨ ه الفضل ا ر ا پریل ۱۳۷ و صفحه ۵ - ار