تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 455
بمهم کلب ہاؤس تعمیر کیا جس سے تبلیغی جلسوں میں بہت آسانیاں ہو گئیں۔حضرت امیر المؤمنین نے مسجد کا مسجد الہدایت تجویز فرمایا ہے نام مولوی عبدالواحد صاحب سماٹری نے ۱۲ جولائی ۹۳۷ایر کو جماعت گامت (جاوا) کی مسجد کا سنگ بنیاد رکهایت اگست ۱۹۳۶ ء میں اسلامی اصول کی فلاسفی کا ملایا زبان کا ترجمہ اشاعت پذیر ہوا سے جماعت احمدیہ پاڈانگ کے ایک مخلص رکن ڈمنگ صاحب ڈاٹو مواجہ ۳ار نومبرت ایزو کو 4 سال کی عمر میں انتقال فرما گئے۔مرحوم مولوی رحمت علی صاحب کے ہاتھ پر داخل احمدیت ہوئے تھے اور سماٹرا میں سابقون میں شمار کئے گئے۔اخلاص کی جس سے جماعت سماٹرا میں نہایت عزت اور وقعت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے سے غایت درجہ عقیدت و محبت تھی یہ ملہ میں اپنے اہل و عیال سمیت مولانا رحمت علی صاحب کے ہمراہ قادیان تشریف لائے۔اور جب حضرت خلیفہ آسیج الثانی نہ کی اجازت سے مگر شریف گئے اور حکومت ملکہ نے اُن کو جیل میں ڈال دیا۔تو اس وقت آپ نے ایمان کی مضبوطی اور پختگی کا شاندار نمونہ پیش کیا۔جماعت پاڈانگ کئی سال سے متفقہ طور پر آپکو پریذیڈنٹ بنانے کی کوشش کرتی مگر آپ یہی چاہتے کہ کوئی دوسرا پریذیڈنٹ ہو لیکنی عمر میں جب حضرت میر اونین کی طرف سے آپ کا تقر ہوا تو سر تسلیم خم کر لیا مگر اس انتخاب پر ایک سا بھی نہیں گذرا تھا کہ آ انتقال کر گے کہے جاد امیں ایک شہر چانجر ہے جس سے پندرہ میل کے فاصلہ پر ایک قصبہ بچت “ نامی ہے۔جہاں کے لوگ اپنے آپ کو محققین کہتے تھے اور اُن کے لیڈر کا نام پر ابو بکر تھا۔ملک عزیز احمد صاحب مبلغ باوا کو شروع ر میں ابو بکر کے ایک معتمد مریدہ مسٹر ویراتا سے ملاقات کا موقعہ ملا جنہوں نے دوران گفتگومیں کہا کہ جو کچھ آپ بتاتے ہیں بالکل درست ہے، اور میرے پیر صاحب نے 1990ء میں ایک رات ا بجے کے قریب سے خاص طور پر یاد فرمایا اور کہا کہ سنو یہ علم جو ہم پڑے ہوئے ہمیں اصل نہیں ہے۔اصل علم جو تمام امت اسلام کیلئے ہے وہ امام مہدی لائے گا۔اور امام مہدی ہندوستان میں لاہور کے قریب آچکا ہے اس کا نام احمد ہے۔لوگ اُن کے مُریدوں کی بہت مخالفت کر ہے ہیں۔ان کی جماعت ہم سے یہاں لے گی اور وہ سیتی سماعت ہوگی۔اے ۱۳۷ امید کی نئی مطبوعات ا ا ا ا ا ا د د د دنیا پر پریشان کیا گیا۔دا بشارت احمد رپر و فیسر محمد الیاس صاحب این ناظم دارالترجمه عما نبودی ا الفضل ۲ رمئی ۱۹۳۷ به صفحه : له الفضل ۲۹ جولائی ۱۹۳۶ء صفحہ ۸ کالم ۲ و ۵۳ افضل ۲۵ ستمبر ۹۲ در صفحه ۸ کالم ۳ من المفضل و در دیر شده و صفحه کالم ابن الفضل مهد را پریل ۱۹۳۶ به صفحه ۱۲ کال ۲ :