تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 437
۴۲۲ قبل یہ سمجھا جاتا تھا۔کہ ایک چھوٹا سا پودا ہے۔ہو چند یوم کے بعد اپنی موت خود در جائے گا۔وہی پودا آج پنپ رہا ہے۔اور اپنی بیڑوں کو اس مضبوطی سے سرزمین سیرالیون میں پیوست کر چکا ہے۔کہ اب خطر ناک سے خطرناک آندھی بھی اس کو اُکھاڑنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔آپنے فرمایا۔احمدیت نے ان چند سالوں میں با وجود مخالفت کی آندھیوں اور نامساعد حالات کے جو غیر معمولی اور حیرت انگیز ترقی کی ہے۔یہ اس امر کا پیش خیمہ ہے۔کہ ایک بڑا انقلاب جلدی احدیت کے ذریعہ اس ملک کی کایا پلٹ دینے والا ہے۔اور وہ وقت کوئی بہت دُور نہیں جب سیرالیون کا ہر فرد اد ا ئے احدیت کے نیچے کھڑا ہو کہ اسلام اور توحید کا نعرہ بلند کر رہا ہو گا۔گو آج اس دعوی کو مجنون کی بڑ ہی سمجھا جائیگا۔اور اس پر طاقتور کو عیسائی میشن منسی اُڑائیں گے کہ اے میں عام احمدیوں کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔مگر میرے ذریعہ میرے خاندان اور قبیلے کے کئی آدمی احمدی ہوئے ہیں۔میرے قبیلے کے ان لوگوں میں احمدیت نے جو اخلاقی تبدیلی اورنہ ہی دلچسپی پیدا کی ہے وہ یقیناً حیرت انگیز ہے۔میں نے کئی ہالہ عام مجالسی میں استند، امرکا ذکر کیا ہے۔حتی کہ بعض عام معیسویں میں جہاں کہ بعض نے احمدیت کے خلاف بھی تقریریں کیں۔میں نے اس بات کو احمدیت کی صداقت میں پیش کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ احمدی کوئی بڑا کام تو نہیں کر رہے ہیں۔آخر تم میں سے جو چند لوگ نکل کر کے ان سے مل گئے ہیں۔دہ چورہ۔ڈاکو۔جھوٹے تو نہیں بن گئے۔ان کی اخلاقی حالت تو پہلے سے اچھی نظر کر ہی ہے۔جو لوگ ان سے معاملہ کر تے ہیں وہ گواہی دے سکتے ہیں کہ ان کا معامل منصفانہ اور نیکیوں والا ہے۔اگر احمدی حضرت مرزا صاحب کو نبی کہتے ہیں تو ہمارا کیا بگاڑتے ہیں۔آخر ہمارے لوگوں کی حالت کو سدھارتے ہی ہیں۔آپ کو معلوم ہے کہ فریون کے احمدیوں کی اکثریت منی لوگوں کی ہے دلیعنی ان کے اپنے قبیلہ کے لوگ اور یہ عجیب بات ہے۔کہ میری کورٹ میں ہر قسم کے لوگوں کے خلاف مقدمات پیش ہوتے ہیں۔مگر اب تک کہ مجھے آپ لوگوں کا چیف بنے تیرہ سال سے زائدہ عرصہ ہو چکا ہے۔میرے پاس کبھی کسی کنی احمدی کے خلاف کوئی مقدمہ آج تک نہیں آیا۔حالانکہ بطور منی میری چیف کورٹ میں میرے اور میرے در زار کے پاس سینکڑوں مقدمات پیش ہوئے ہیں کیا اس کا صاف یہ مطلب نہیں کہ احمدی چونکہ قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔اور نہ کسی پر زیادتی کرتے ہیں۔اسلئے انہیں کورٹ میں نہیں لایا جاتا۔آخر اگر دوسرے ٹمنی لوگوں میں سے کئی چوریاں کرتے ڈالئے پاتے ه الفضل ۱۹ جنوری ۱۹۵۷ء ص بن