تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 431 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 431

مگر اس ملک میں احمدیت کی ترقی میں شروع ہی سے قبولیت دکھا۔رویاء د شورت کا نمایاں ہفتہ رہا ہے۔ان آسمانی نشانات کا سلسلہ حیرت انگیز طور پر وسیع ہے۔اور اب تک جاری ہے۔بطور نمونہ چند ایمان افروز واقعات کا بیان کر نا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔• مولوی نذیبا حمد علی صاحب امداد کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔پہلا واقعہ باؤ کا ہوں سے ہم میں کے فاصلہ پر پہاڑی علاقہ میں ایک ریاست واقع ہے۔جسے گورانا کہتے ہیں۔ریاست کے رئیس اعلیٰ یعنی PAR AMOUNT CHIEF ٹونگے نامی گاؤں میں رہتے ہیں۔اور اس لحاظ سے ٹونگے کو ریاست کا صدر مقام کہا جاتا ہے۔ستمبر کے مہینہ میں خاکسار با درا ہوں۔سے چار مزدوروں کے ہمراہ جنہوں نے میرا سامان اٹھایا ہوا تھا۔پیدل ٹونگے پہنچا۔باد ما ہوں کے چند مخلصین بھی میرے ہمراہ تھے۔چیف کا نام بائیو (BAY0) ہے۔جو پہلے مشرک اور نیم عیسائی تھا اور دس سال کے رصہ سے یہ سائی مبلغین اس کے ہاں کام کر رہے تھے۔یہ چیف ایک نہایت پرانی اور خطر ناک بیماری میں مقبول تھا جس کے علاج پر دھہ ہزاروں روپیہ برباد کر چکا تھا۔میں نے یہاں آکر بہت سے لیکچر دیئے۔لیکن چیف ہمیشہ اپنی تیاری کا قصہ چھیڑ دیا اور اس ملک کے علماء کے طریق کے مطابق مجھ سے کسی موثر تعویز کا مطالبہ کرتا اور کہتا کہ ہمیں قدر بھی خرچ ہو وہ ادا کرنے کیلئے تیارہ ہے۔میں نے اسے احمدیت کی دعوت دی اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کو دعا کیلئے کھنے کا وعدہ کیا چنانچہ اس نے نہایت اخلاص سے احمدیت قبول کی اور ابھی ہمارا خط حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پہنچا بھی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے غیر معمولی فضل سے نہایت معمولی سی دوا کے ذریعہ جو میرے پاس موجود تھی اسے شفاء عطاء کر دی۔فالحمد للہ علی ذالک ہے۔دو سرا واقعہ موادی محمدصدیق صاحب امرتسری تحریر فرماتے ہیں :- و یہ دو میں سیرالیون معرفی افریقہ کے ایک عیسائی نوجوان K GAMANGA تور بہو کہ اپنی ریاست کے شاہی خاندان کے فرد تھے۔اسلام قبول کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوتے۔درد میں ان کی ریاست کے نواب یعنی اس نوجوان کے چچا کے فوت ہونے پر وہ خود اس عہدہ کے حصول کیلئے بطور امید دار کھڑے ہوئے اور مجھ سے اپنی کامیابی کیلئے دگنا کرنے کی درخواست کی۔میں نے انہیں کہا کہ ہم اس شرط پورسید نا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت عالیہ میں دعا کیلئے عرض کریں گئے اور خود بھی ہے۔اخبار الفضل ۲۲ ستمبر رد ص ۲