تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 413
سیرالیون کے احمدیوں ابھی گور کا اور ٹوکے مراکز زیر تیری تھے۔کہ اکتوری شکل دینی جماعت میں ہائے ہانگا ، پوئے ہوں۔مانو کوٹو ہوں ، ٹونگیا اور کوریا کو اُنکے چینیوں پر مظالم کا پہلا دور اور موکل نمبرداروں کی طرف سے سخت اذیت پہنچانی شروع کر دی گئی۔تقریباً آٹھ احمدیوں کو ٹونگیا میں صرف احمدیت کی وجہ سے آٹھ پونڈ جرمانہ کیا گیا اور دو دن قید میں رکھا گیا۔ایک دن ان احمدی روزہ داروں کو روزہ کی حالت میں صبح سے شام تک سورج کی تپش میں رکھ کہ سمرا دی گئی اور آئندہ کے لئے قانون بنا دیا گیا کہ کوئی احمدی مسجد یا گھرمیں نماز ادا نہ کرے۔اسی طرح ایک افریقن احدی مبلغ کو تین پونڈ جرمانہ کرنے کے علاوہ ان کو بالکل برہنہ کر دیاگیا اور ہاتھ پاؤں باندھ کر ساری رات قید رکھا گیا۔ہانگا اور پوٹے سون میں بھی نماندہ کی ممانعت کے علاوہ 1 پونڈ جرمانہ کیا گیا۔ٹونگیا کے امام اور دیگر مخلصین کی آنکھوں میں پسی ہوئی مرچیں ڈالی گئیں بعض کو رمضان میں بحالیت روزہ کئی کئی گھنٹے تپتی ہوئی دھوپ میں کھڑا رکھا گیا۔پانگو ما " DANGUNA کے بعض احمد یوں کی گھٹنوں تک زمین میں گاڑہ کہ ان سے احمدیت سے تو یہ کہ انے کی کوشش کی جاتی رہی۔بعض سے بیگار کے کام اور شدید محنت کے اور ادنی درجہ کے کام کئی روز تک لئے جاتے رہے۔بعض احباب کو نا قابل ادا اور ، جرمانے کئے گئے۔بعض کی بیویاں ان سے چھین لی گئیں۔بعض کو اُن کے آبائی گاؤں سے نکال کر اُنکی جائداد پر قبضہ کیا گیا۔بعض کو لوکل عہدوں سے ہٹا کر ذلت آمیز سلوک کیا جاتا رہا۔بقیہ لایا : لوگوں کے مقابل میں کمز ور تھے۔اور مخالفین کا بڑا اجتھا تھا۔مگراللہ تعالیٰ کی آخرت اپنے بندوں کیلئے ظاہر چھوٹی اس کی غیرت نے جوش مارا اور وہ شخص جو مدت سے بڑے دعوے کہتا تھا خدا تعالی کی گرفت کا شکار ہو گیا۔اس کا وہی لڑکا جو ائنی احد یہ سکول سے اُٹھا لیا تھا تپ محرقہ کا شکارہ ہو کہ مر گیا۔اور اس کا بڑاٹ کا سرکار کی مال کی چوری کے الزام میں پکڑا گیا۔اور اُسے بچانے کی تگ درد کے سلسلہ میں اُسے قریبا ایک ہزار پونڈ صرف کر نا پڑا مگر پھر بھی اُسے تیرہ ماہ قید سخت اور رہا ہونے کے بعد اخراج از ملک کی سزا ہوئی۔ایک موقع پر ایک شامی نے سفارش کی کہ اس کی رہے چھوٹے لڑکے کو پھر سکول میں داخل کر لیا جائے مگر امدی مبلغین نے یہ شرط پیش کی کہ وہ خود اپنی غلطی کا اعتراف کرے۔اس بات سے بگڑ کر ائشی ریلوے سٹیشن گبور کا پر پھر احمدیوں کو برا بھلا کہا اور بد زبانی کی۔مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے غریب بندی کے لئے اس قدر غیر دکھائی کہ وہ فری ٹاؤن پہنچتے ہی جہاں وہ جارہا تھا بغیر لائسنس کے سونا فروخت کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔اور اٹھارہ تولہ سونا بھی جو اس کی قبضہ میں تھا ضبط کر لیا گیا۔عدالت میں مقدمہ چلا جہاں سے سونے کی ضبطی کے علاوہ اُسے جو بیانہ کی سزا ہوئی۔اس کے بعد امر پر نا جائز ذخیرہ اندوزی کے جرم میں بھی مقدمہ چلایا گیا اور اب اس کا سٹور بھی ضبط کر لیا گیا ہے ه : الفضل ۲۰ دسمبر ۱۹۲۳ در مدت کالم علت ۲ ہے +