تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 408
۳۹۳ ضرورت ہے۔مگر ہم چند ایک جگہ جماعتیں قائم کر کے سمجھ بیٹھے ہیں کہ بہت کام ہو چکا ہے۔اور اس طرح ہم کو تا ہی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔مولوی محمد صدیق صاحب نے عرض کیا جو آپ فرمائیں میں حاضر ہوں۔چنانچہ اسی ہفتہ جماعت کے دس پندرہ مخلصین کو بلا کر ایک میٹنگ کی گئی اور جملہ حالات کا جائزہ لیا گیا۔بالآخر علاوہ دیگر تجاویز کے ایک تجویز یہ قرالہ پائی کہ سر دست دونوں مبلغین میں سے کوئی بھی ایک مقام پر لمبا عرصہ قیام نہ کرے اور کسی جگہ کو اپنا مرکز نہ بنائے۔بلکہ کچھ عرصہ کے لئے سارے سے سیرالیون کو سرد ہے اور EXPLORE کر کے ایسے علاقے ڈھونڈے جائیں جو احمدیت کے لئے زرخیز ثابت ہوں۔چنانچہ اس کے بعد حضور کو مفصل رپورٹ اور دُعا کے لئے کھکر یہ پروگرام بنایا گیا کہ مولوی نذیر احمد صاحب سیرالیون کے شمالی سرے سے جنوبی سرے تک اور مولوی محمد صدیق صاحب مشرقی سرے سے مغربی سرے تک سارے ملک کا ایسے طور پر دورہ کریں کہ ہر قصبہ اور ہر بڑے گاؤں میں ٹھہر کر تبلیغ کی جائے۔چنانچہ اگلے چھ سات ماہ ان مجاہدین نے درود و افریقین طالبعلموں کے ساتھ متواتر لیے دوروں میں گزارے جس کے نتیجہ میں محض خدا کے فضل وکرم سے ملک کے مختلف جھوں میں آٹھ دس نئی جماعتیں قائم ہو گئیں جو ساتی پذیر ہیں۔چنانچہ علاقہ ہو گیا rowain اور اسکی اردگرد کی مخلص جماعتیں انہیں مبارک ایام کی یادگار ہیں لیے ماگور کا اور ٹوئیں مخالفت کے باؤنا ہوں سے میشن کے اٹھائے جانے کے عظیم خور کے پیش نظر مبلغین سیرالیون نے اس دوران ما گبور کا اور ہوئیں با وجود ذیلی مراکز کا قیام علی الترتیب نمی اور مینڈے قوموں کیلئے مراکز قائم کرنے کی بھی جدو جہد کی تھی۔مگر چونکہ باد کا ہوں میں احمدیت کے مقابلہ میں عیسائیت کو سخت ہر سمیت اٹھانا پڑی تھی اور عیسائیوں کے ٹوبی میشن کو اپنا میشن اور سکول بند کر دینا پڑا تھا اسلئے عیسائی مشنریوانی انتہائی کوشش کر کے مالک زمین اور پیرامونٹ چیف کو اس بات پر رضامند کر لیا کہ نا گہور کامی احمدیوں کے قدم نہ جتنے پائیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری حکمت عملی سے نہ صرف زمین حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔بلکہ خود کوشش کر کے احمدی اور غیر احمدی دوستوں سے دو سو تیس پونڈ کے قریب جمع کر کے احمدیہ مسجد اور احمدیہ دار التبليغ مہ مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری کے خود نوشت حالات سے ماخوذ ہے