تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 356 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 356

۳۳ راس اثناء میں ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ دفاتر پنجاب یونیورسٹی کے احاطہ میں ایک مسجد تھی جس میں اِدھر اُدھر سے احمدی جمع ہو کر نماز جمعہ ادا کرتے تھے۔دفاتر کے غیر احمدی ملازمین نے احرار کے شور و غوغا سے متاثر ہو کر انجمن کے دفتر میں ایک آدمی بھیجا کہ جمعہ پڑھانے کے لئے ہمیں ایک آدمی دیا جائے جو احمدیت کے عقائد کی تردید بھی کر سکے۔اور ساتھ ہی چند آدمی جمعہ کے موقعہ پر ہمراہ لے آئے۔تاکہ احمدی اگر فساد کرنا چاہیں تو موقعہ پر کام آئیں۔چنانچہ خاکسار حسب تجویز جمعہ پڑھانے کے لئے گیا۔احمار کی جب جمعہ پڑھنے کے لئے آئے تو وہ خاموش ہو کر سامنے بجھے گراسی پلاٹ میں چلے گئے۔اور انتظار کرنے لگے کہ جب غیر احمدی جمعہ پڑھ لیں تو پھر ہم بھی مسجد میں پڑھ لیں گے۔لیکن اختتام جمعہ کے بعد بعض شرارت پسند ملازمین نے کہا کہ مولوی صاحب! ابھی احمدی با ہر انتظار میں بیٹھے ہیں اس لئے آپ وحفظ شروع کر دیں تاکہ وہ نا امید ہو کر پہلے جائیں۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔غرض اِس طرح متواتر خاکسار جمعہ پڑھا نے سہاتا رہا۔اور اس طرح احمدیوں کو وہاں جمعہ پڑھانے سے روک دیا گیا۔لیکن اس کا ایک اثر یہ ہوا کہ چونکہ شما کسار کو ہر جمعہ تقریرہ کرنی پڑتی اور راہ ہدایت کی بڑے زور شور سے تلقین کی جاتی مگر آہستہ آہستہ اندر ہی اندر ضمیر نے ملامت کرنی شروع کی۔آخر کار حالت یہانتک پہنچی کہ تقریر کرتے کرتے آیا یهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ ، كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ ، کا مضمون آنکھوں کے سامنے پھرنے لگتا۔اور عالم اضطراب میں تقریر رک جاتی اور ایک لفظ تک کہنا محال ہو جاتا۔اس حالت کو دوسے بھی محسوس کرتے اور کہتے آپ پہلے تو بہت اچھی تقریر کرتے تھے مگر اب یہ کیا رکاوٹ ہیں! ہو جاتی ہے۔اس اثر کے پیش نظر خدا کسار نے عملی حالت کے شدھار کی جانب توجہ کی مگر اس دشوار گزار وادی میں داخل ہوتے ہی گھبراہٹ اور اضطراپنے قدم پکڑ لئے اور ایک قدم آگے بڑھانا محال ہو گیا دہریت کے خیالات مردار خوار گروہ کی طرح سر پر منڈلانے لگے۔اپنی طاقت اور رسائی کے مطابق اپنے ہم عقیدہ بدرقہ اور رہنما کی تلاش کی مگر ہر طرف سے یہی جواب آیا کہ اس پر فتن زمانہ کے شرور سے محفوظ رہنے کیلئے اولیاء الل نے کنج گمنامی اختیار کرلیا ہے۔ایک احمدی دوست نے مشورہ دیا کہ چنا شروط ان ملک صلاح الدي صاحب اکیر۔اسے مراد ہیں۔دن قبل ؟