تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 355
سلام سلام میں وقت ختم ہو گیا۔جمعتہ الوداع کے عظیم الشان اجتماع پر لوگوں سے امیر شریعت تسلیم کرنے کی بیعت لی گئی جس کی ضرورت ان الفاظ میں بیان کی گئی کہ خلیفہ محمود اپنے مریدوں کے بل بوتے پر سرکار کو مرعوب کئے ہوئے ہے تم بھی میرے مرید بن سجاؤ۔تاکہ میں اپنے آپ کو عدالت میں ممتاز صورت میں پیش کر سکوں۔یہاں صرف دستی بیعت کر جاؤ۔گھر جاکر خدا کی راہ میں تین پیسے (نر) کی قربانی کر کے بذریعہ کارڈ بیعت کی اطلاع بھیج دینا۔بڑے زور شور سے بار بار اس کے لئے وعدے لئے گئے۔وعدہ وفائی کے اجر اور بے وفائی کے زجر کا زبر دست وعظ کیا گیا۔چونکہ خاکسار کو امیر شریعت کی ہمراہی کا پہلی دفعہ اتفاق ہوا تھا۔اس لئے اپنے آپکو سعادت مند سمجھتے ہوئے شہیدہ کے بود مانند دیدہ کے خیال سے اس موقع سے متمتع ہونے کا ارادہ کیا۔تا کہ اشتغال امیر کو حرز جان بن کر ان پر عمل کرنے کی سعادت حاصل کی جائے۔آنکھوں نے کچھ دیکھا۔دل نے جو عقیدت کے پر پہنچے جال میں اسیر ہو چکا تھا۔آنکھوں کو دھو کا خوردہ قرار دیا اور وجد کے عالم میں جھوم جھوم کر گانے لگا۔ہے بجے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید کہ سالک بے خبر نبود به راه و رسم منزال ها بعد فراغت کسی قدر تذبذب کی حالت میں واپس لاہور آیا اور تحر یک احرار کے نتائج کا بڑی بے صبری کے ساتھ انتظار کرنے لگا۔امیر شریعت کے بلند بانگ دعاوی ایک خاص اُمید کے ساتھ اخبارات کے کالم دیکھنے پر مجبور کرتے۔نظریں عاشق بے تاب کی طرح جو اپنے گم شدہ محبوب کی تلاش میں نہایت بے صبری کے ساتھ جلدی جلدی نظر جما جما کر ادھر اُدھر مجنونانہ وار یکھتا ہے اسلام کی فتح اور گھر کی شکست کی خبریں تلاش کرتیں۔مگر یہاں کوئی ہوئی تو نظر آتی۔بڑے بڑے زبر دست قادیانیت شکن ، عنوان میراند طبل بلند بانگ کا نظارہ - آخر ایک پریشانی اور اضطراب کے عالم میں يَنْقَلِبُ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِ وَهُوَ حَسِیره کی حالت طاری ہو کر آئندہ کی اُمید میں اخبار کا ورق ہاتھ سے گر پڑتا۔اور لَا تَقْنَطُو مِنْ رَحْمَةِ الله کی یاد پریشانی کو مستقل به مسترت کر دیتی۔