تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 354
المسلم کاروائی دیکھنے کے لئے لوگ جوق در جوق آنے شروع ہوئے۔خاکسار بھی اسلام کی فتح کی دعائیں کرتا ہوا شامل جلسہ ہوا " علماء اسلام و رہنمایان احترار ا نے لوگوں کو تسلیاں دیں۔اسلام کی فتح اور کفر کی شکست کی پیشگوئیاں کی گئیں۔مقدمہ لڑنے کا ریزولیوشن پاس کیا۔مقدمہ کے اخراجات کے پیش نظر چندہ کی اپیل کی گئی۔انجمن سیف الاسلام کی طرف سے بھی ہر جمعہ مسجد نیلہ گنبد میں اس اپیل کی یاد دہانی کرائی جاتی اور چندہ اکٹھا کرکے جو کبھی میں روپیہ اور کبھی نہیں روپیہ ہوتا دختر مجلس احرار میں بھیج دیا جاتا۔حضرت امیر شریعت ضمانت پر رہا ہو کر لاہور تشریف لائے۔اہالیان شہر نے مجاہد اسلام کا شاندار استقبال کیا۔جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے "حضرت" نے بڑے زور سے پیشگوئی کی کہ لوگو! اب قادیانیت کے آخری سانس ہیں۔اس کا جنازہ میرے کندھوں پر اٹھے گا۔اس کا آسمان پر فیصلہ ہوچکا ہے عنقریب قادیانیت کا قلعہ پاش پاش ہو جائیگا۔گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔اصول جنگ سے واقفیت رکھنے والے جرنیل اسلام" کے ان بلند بانگ دعاوی سے کسی قدر منتخب ہوئے۔مگر پھر دل کو سمجھایا اور امیر شریعت کی ہر زبان مبارک سے لکھتے ہوئے کلمات کے حرف بحرف پورا ہونے کی دُعائیں کرتے ہوئے گھر واپس آئے۔رمضان مبارک کا مہینہ تھا۔جمعتہ الوداع کو تاریخ مقدمہ تھی۔جلسوں اور اخبارات کے ذریعہ انہیں کی گئی کہ لوگ کثرت کے ساتھ جمعتہ الوداع کے موقع پر گورداسپور پہنچیں اور اپنے مجاہد کی شان و شوکت کے اظہار کے لئے زبردست مظاہر کریں۔بہاولپور سے مقدمہ بہاولپور کے بیانات کی نقلیں لیکر جامعہ عباسیہ کے ایک پر و فیسر صاحب بھی آئے۔چونکہ خاکسار اُن کا شاگرد رہ چکا تھا اس لئے وہ مجھے بھی اپنے ہمراہ گورداسپور لے گئے۔تاریخ مذکورہ محترمی جناب۔تواجہ غلام نبی صاحب ایڈیٹر الفضل نے بطور گواہ پیش ہونا تھا۔چونکہ وقت بہت تھوڑا تھا اور ابھی اعتراضات کا مستورہ پوری طرح تیار نہیں ہوا تھا۔اس لئے کرایہ پر لائے ہوئے علماء کرام کو کہا گیا کہ رات کے اندر اندر سورہ مکمل کر دیا جائے۔خاکسار نے بھی اختر انسات کے جمع کرانے میں اپنی قدر و طاقت کے مطابق حصہ لیا۔غرض رات بھر بیدار رہ کر اعتراضات کا مسودہ تیار کر لیا گیا۔گار غفلت شعار وکیل نے شستی کی اور وہ مسودہ کا مطالعہ نہ کرسکا۔اس لئے دوسرے دن مجسٹریٹ کی عدالت میں گواہ پر وہ اعتراضات نہ ہو سکے اور آئیں بائیں