تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 344
۳۳۱ مولوی محمد علی صاحب کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اس موقع کو غنیمت سمجھیں اور نبوت مرزا پر بحث کو ٹال نہ دیں گے مگر جناب مولوی محمد علی صاحب آخر دم تک اپنے انکار پر اصرار کرتے رہے !! فصل نهم ۱۹۳۶ء کے متفرق مگر اہم واقت خاندان حضرت موجود مینی کی اریا روشی ر مئی ۹۳۶ اسد کو بعد نماز عصر حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے قرز ندارجمند میاں محمد احمد خان صاحب کا عقد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے کی دختر نیک اختر امتہ الحمید بیگم صاحبہ کے ساتھ پندرہ ہزار روپیہ مہر پر ہوا۔خطبہ نکاح حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ارشاد فرمایا۔لے حیدر آباد دکن کے ایک معزنہ نواب میجر ممتا زیاد و الدوله ۱۲۸ فروی میجر ممتاز یا ور الدولہ بہادر ۱۹۳۷ که مولوی سید ابشارت احمد صاحب امیر جماعت احمدی حیدر آباد دکن قادیان میں کے ساتھ قادیان تشریف لائے۔حضرت امیر المومنین کی ملاقات اور قادیان کے مرکزی اداروں سے بہت متاثر ہوئے۔اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہاں کے عملہ کاروبار میں اخلاص و ایثار و للہیت کار فرما ہے" سے هر مارچ ۱۹۳۶ء کو آریہ سماج جمتوں کے زیر انتظام ایک مذہبی امی افراس من محمد بن کا نفرنس کا انعقاد ہوا جس میں ماشہ محمد عمر صاحب نے مسلم مولوی فضل نے بھی تقریہ کی جو بہت پسند کی گئی۔موضوع یہ تھا " مجھے میرا دمحرم کیوں پیارا ہے ہے حضرت خلیفة المسیح الثانی زہونے مجلس مشاورت سائر میں مرکزی دفاتر تحقیقاتی کمیش با تقوایا (۱) حضرت میر محمد اسماعیل صاحب صدر (سول سرجن گوجرانوالہ (۲) راجہ علی محمد صاحب (افسر مال لاہور )۔لے ہفت روزہ الحدیث امرتسردار جنوری ها و صفحوه کال ۱۳۰۷ عن الفضل، ارمى سواء صفورا کالم - خطبه نكاح الفضل " ار می داره صفوی تاو پر شائع ہو چکا ہے سے افضل ہم مارچ ۱۹۳۶ و صفر ۲ و : افضل ۳ در مایه ها و ملا ۱۴ 1414