تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 318 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 318

۳۰۵ روکیں مل کر بھی اس میں حائل نہیں ہو سکتیں یہ قادیان کے محلہ دیتی چھلہ (دار الفتوح) کی مسجد جس کی تعمیر مسجد محلہ رہنی جھلہ قادیان ۱۹۳۵ء میں حکام کی جنبہ داری کے باعث رکی ہوئی تھی۔کا افتتاح اس سال (حضرت قاضی عبد الرحیم صاحب کی زیر نگرانی) پائیہ تکمیل کو پہنچ گئی۔اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ہم اور مارچ سال ہو کو کسی نماز عصر برپا کر مسجد کا افتتاح فرمایا۔ہے قادیان میں اجتماعی وقار عمل حضرت خلیفہ المسیح الثانی بن نے تحریک جدید کا السلمان رض کرتے ہوئے سولہواں مطالبہ یہ فرمایا تھا کہ احمدی اپنے کے بابرکت سلسلہ کا آغاز ہاتھ سے کام کریں اور سے پہلے ہی قادیان پر پیام داری ڈالی کہ وہ محلوں اور گلیوں کو درست کر کے ثواب حاصل کریں۔اس عظیم الشان مقصد کے پیش نظر قادیان میں اجتماعی وقار عمل کے اہم سلسلہ کا آغاز ہوا جود تقسیم ہند تک جاری رہا۔اس ضمن میں سے پہلا اجتماعی و ار ال جی میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بنفس نفیس شمولیت فرمائی ۲۸ مارچ نے کور بوقت پانچ بجے شام احد یہ سپلائی کمپنی اور سٹار ہوزری کے اس قریبی رستہ پر منایا گیا جو میرا نے اڈہ کو جاتا ہے اور جب کسی قرب وجوار میں زیادہ آبادی ہنڈوں اور غیر احمدیوں کی تھی اور جہاں ایک کافی گہرا اور خاصہ لمبا چوڑا گڑھا تھا۔جس میں قریباً سارا سارا سال پانی بھرا رہتا تھا۔اور فضا سخت متعفن ہو جاتی تھی۔حضرت در المومنین آخر وقت تک ایک ہے سے لیکر دوسرے سرے تک گشت کر کے نہ صرف زیادہ سرگرمی اور زیادہ مستعدی کے ساتھ کام کرنے کی ہدایات دیتے رہے بلکہ حضور نے متعدد بار خود کدال لیکر مٹی کھو دی۔ٹوکریوں میں بھری اور پھر مٹی کی بھری ہوئی ٹوکری کافی فاصلہ سے اٹھا کرگڑھے ہیں ڈالی۔اگر چہ کام کے لئے وقت بہت تھوڑا اور سامان ناکافی تھا۔لیکن حضور کی موجودگی اور پھر کام میں خدام کے ساتھ شمولیت نے بڑوں ہی میں نہیں چھوٹے بچوں میں بھی خاص ہمت اور جوش پیدا کر دیا۔اور وہ اپنی جھولیوں میں مٹی ڈال ڈال کر لئے جاتے رہے۔مٹی ڈھونے کا طریق ه روزنامه افضل ۸ار بار ۱۹۳۷ و صفحه ۳ ۳ : ۵۲ الفضل ۲۶ مارچ ۱۹۳۶ یو صفحه ۲ *