تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 311
۴۹۸ اور احمدیت نے۔میڈرڈ کی صورت حالات جب حد درجہ نازک ہوگئی۔تو برطانوی حکومت نے حکماً ہر فرد کو سپین سے نکال کر جنگی بحری جہازوں کے ذریعہ فرانس اور دیگر ممالک میں بھیج دیا۔چنا نچہ مجھے بھی فرانس کی بندرگاہ مارسیلز پر آکر پناہ لینی پڑی جہاں سے لنڈن گیا اور لنڈن سے سمندر کے راسته حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد کے مطابق ۲۱ جنوری سے بڑ کو اٹلی کے دارالسلطنت روما میں پہنچا۔روہم شہر میں میری طلاقات کو نٹ غلام احمد صاحب سے ہوئی۔آپ باوجود ضعیف العمری کے میرے مکان پر آیا کرتے جو چھٹی منزل پر واقع تھا سپین کی مسلسل اور خطرناک بمباری کے دوران میرے پاؤں میں ہم کے ٹکڑے ایسے موجود تھے جنہیں نکلوانے کے لئے کئی ماہ ہسپتال میں زیر علاج رہنا پڑا۔جونہی اللہ تعالیٰ نے شفاء بخشی۔زبان سیکھنے اور تبلیغ احمدیت کے کام کی طرف متوجہ ہوا ین ۱۹ ء تک ہر قسم کے صبر آزما حالات کا مقابلہ کر کے اور چند با و قارا در خلیق انسانوں کو حلقہ بگوش احمدیت کرنے کے بعد جنگ عالمگیر ثانی کے نتیجہ میں یمن کے قیدی کیمپوں میں ایام زندگی ۱۹۴۲ء تک گزار نے پر مجبور ہوا۔روما کے معزز اور باوقار احمد می دوستوں میں سے خود گونٹ غلام احمد صاحب۔پروفیسر یقین صاحب اور ڈاکٹر انور صاحب کے والد بشیر احمد صاحب جوام اور خود ڈاکٹر انور صاحب قابل ذکر ہیں جو اپنے اخلاص اور محبت کیوجہ سے اس قابل ہیں کہ تاریخ احمدیت میں اُن کے نام محفوظ رہیں۔دشمن کے قیدی کیمپ میں جانے سے پہلے ایطالیہ میں تیر کے قریب انسانوں نے احمدیت قبول کی تھی مگر قید کے چہار سالہ عرصہ میں ہر کسی پر طرح طرح کے مصائب آئے۔جنگ عالمگیر ثانی کی دردناک تکالیف اور ایک دوسے سے دوری نے رہی سہی تنظیم کو نقصان پہنچایا۔تاہم جہاں کہیں بھی احمدی موجود تھے اور ایمان کی چنگاری ہمیشہ ان کے اندر روشن رہی قید کے چار سالہ عرصہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے تبلیغ احمدیت کا کام جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائی۔چنانچہ میری پہلی بیوی سلیمہ خاتون کے علاوہ یوگوسلاویہ کے تین افراد کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ وہ احمدیت قبول کریں۔ان میں برادرم توفیق caicic صاحب خاص طور پر اپنے اخلاص اور ایثار کی وجہ سے قابل ذکر ہیں۔قیدی کیمپ میں بھی اللہ تعالیٰ نے بے شمار احسانات مجمد عاجز پر گئے۔چنانچہ پندرہ مختلف اقوام کی نمائندگی کے فرائض سرانجام دئے اور آخر کار حسن سلوک اور احسانات کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے اپنی ہر دلعزیزی کے نتیجہ میں سینکڑوں مصیبت زدہ قیدی ساتھیوں کی