تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 310
نامی تھے۔آپ کا نام حضرت مسیح موعود کے نام پر ہی کونٹ غلام احمد رکھا گیا۔آپ میڈرڈ شہر کی بار ایسوسی ایشین کے صدر اور یونانی شہریت رکھتے تھے۔آپکی اہلیہ کو بھی اللہ تعالے نئے نعمتِ ایمان سے مالا مال کیا۔آپ کا اسلامی نام آمنہ رکھا گیا ، خانہ جنگی کے دوران کمیونسٹ خیال کے اکابرین ہر اس انسان کی تلاش میں تھے جو کسی نہ کسی طریق پر خدا پر ایمان رکھتا ہو۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میڈرڈ شہر میں آباد خدا پر ایمان رکھنے والے انسانوں کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑا اور مجبورا کونٹ غلام احمد صاحب کو سپین سے نکلنا پڑا عرصہ کے بعد البانیہ پہنچے جہاں اپنی عمر کا باقی ماندہ حصہ بسر کر کے عین اُس وقت آپکی وفات ہوئی جبکہ میں جنگ عالمگیر ثانی کے دوران ہیمن کے قیدی کیمیوں میں بے کسی کے ساتھ زندگی بسر کر رہا تھا۔آپکی اہلیہ آمنہ کو میڈرڈ کی پولیس نے گرفتار کر کے ہر روز ڈراؤ دھمکاؤ کے ساتھ گولی سے اُڑا دینے کی دھمکیاں دیں۔اور یہی بتایا جاتا ہے کہ اگل صبح آپکو گولی مارکر اڑا دیا جائیگا۔مگر خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ غیر متوقع زنگ میں آپ کو رہا کر دیا گیا۔میڈرڈ شہرمیں بمباری اس شدت سے ہوتی تھی کہ لوگ ہر لمحہ آہ و زاری ہی کرتے سنائی دیتے تھے۔اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے اُسی کے حضور سوز و گداز کے ساتھ دُعاؤں کا سلسلہ جاری تھا چنانچہ دو مرتبہ اللہ تعالیٰ نے خارق عادت طور پر موت کے منہ سے بچایا اور اعلائے کلمتہ اللہ کو جاری رکھنے کی توفیق بخشی۔جوں جوں بمباری کیادہ خطر ناک صورت اختیار کرتی چلی جارہی تھی ہر کسی کی گھبراہٹ اور تشویش میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا۔انگریزی سفیر نیم میڈرڈ نے حالات کی حد درجہ نزاکت کے پیش نظر مجھے سفارت خانہ میں بلا کر اس بات کا مشورہ دیا کہ میں جان کی حفاظت کی خاطر سپین چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں چلا جاؤں۔مگر میں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔اور آپ سے دریافت کیا کہ آپ خود ایسے درد ناک حالات کے پیش نظر اس ملک کو چھوڑ کر کیوں نہیں پہلے جاتے ؟ اسپر جواب ملا کہ وہ انگریزی حکومت کے حکم کے بغیر کوئی عملی قدم نہیں اُٹھا سکتے۔میں نے جوابا بتا یا کہ جب آپ چند پونٹوں کے لالچ سے اپنی جان کو مصیبت میں ڈالنے کے لئے تیار نہیں تو مجھے اتنا ہی ذلیل سمجھتے ہیں کہ میں موت کے ڈر سے اس پاک سے چلا جاؤں۔بعینہ اس حالت میں جبکہ یہاں آیا ہی مرنے کیلئے ہوں۔اسپیر آپ نے میری عمر پوچھی۔اور یہ معلوم کر کے کہ تیس سال کی عمر میں اتنی قربانی کی روح موجود ہے۔مزید پوچھا کہ یہ روح آپ کے اندر کس نے پیدا کی ہے۔میں نے نہایت عاجزی سے بتایا کہ اسلام