تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 309 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 309

494 کا دور دورہ شروع ہوگیا۔مگر آپ بدستور تبلیغ اسلام میں مصروف رہے اور چند ماہ کے اندرہی سپین میں احمدیت کا بیج بونے میں کامیاب ہو گئے یعنی بعض سعید رو میں حلقہ بگوش اسلام ہوگئیں لیے چنانچہ سب سے پہلے کونٹ غلام احمد صاحب اور پھر مرزا آغا عزیز صاحب نے احمدیت قبول کرلی سے نومبر ۱۹ ء میں اسپین قیامت خیز جنگ کا میدان بن گیا اور بمباری اور توپوں کے گولوں نے سر بفلک عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل کر دیں۔ملک صاحب جس مکان میں رہتے تھے اُس کے اردگرد اکثر مکانات پیوند خاک ہو گئے۔اور لوگ اپنا مال و متاع چھوڑ کر بھاگ نکلے۔مگر خدا نے احمدی مجاہد کو بالکل محفوظ رکھا۔جب حمالات خطر ناک صورت اختیار کر گئے۔تو بر طانوی سفیر نے آپ کو سفارت خانہ میں بلایا اور دو دن گزار نے کے بعد دوسری برٹش رعایا کے ساتھ آپ بھی حکماً میڈرڈ سے لنڈن بھیج دیئے گئے۔قریباً ایک ہفتہ لنڈن میں گزارنے کے بعد بھری جہاز سے جبرالٹر روانہ ہوئے۔مگر جبرالٹر اترتے ہی حکومت کی خاص پابندیوں کے باعث اُسی جہاز میں واپس ہونا اور فرانس کی ایک بندر گاہ میں اترنا پڑا۔جہاں آپ نے قریباً ایک ماہ تک قیام کیا اور اعلائے کلمۃ اللہ میں مصروف رہے۔اسی دوران حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی طرعت سر اٹلی پہلے جانے کا ارشاء موصول ہوا۔جس پر ملک صاحب ٹولوں سے بذریعہ گاڑی اٹلی کے دارالسلطنت روما میں تشریف لے گئے۔روما سے آپ کی سب سے پہلی رپورٹ جو مرکز میں پہنچی۔وہ ۲۵ جنوری لاء کی لکھی ہوئی تھی میلہ حجا پرسین املی کے دار التبلیغ میں اور دارالتبلیغ امی کے محلہ ابتدائی واقعات لکھنے کے کے بعد اب ہم ملک محمد شریف صاحب مجاہد سپین اٹلی کے قلم سے ان مارک میں تبلیغ اسلام و احمدیت کے ایمان افروز حالات درج کرتے ہیں۔ملک صاحب خود نوشت حالات تبلید تحریر فرماتے ہیں :۔سپین کی خانہ جنگی شروع ہونے سے پہلے میڈرڈ شہر کی تھیو فیکل سوسائیٹی کے میر صاحبان کے علاوہ انفرادی طور پر جن چیدہ چیدہ انسانوں تک پیغام احمدیت پہنچانے کی توفیق الہ تعالیٰ نے بخشی۔اُن میں سے قابل ذکر یونان کی ایک بہت بڑی شخصیت COUNT ANTONIO LOGO THE TE الفضل ۲ نومبر ۱۹۳۶ء ۹ اور ۲ نومبر من : د افضل ۲۹ دسمبر سه است - تاریخ بیعت آنا صاحب ۲۱ ستمبر ۱۹۳۶ تفصیلی رپورٹ الفضل ۱۶ مروری سه تار و صفحہ ہ دو پر شائع شدہ ہے ؟