تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 308
۲۹۵ نے یہاں بھی اسلام و احدیت کا جھنڈا گاڑانے کا فیصلہ کیا اور اسکی تکمیل کیلیے مولوی رمضان علی صاحب کو منتخب فرمایا۔مولوی صاحب موصوف در تار نوری ۱۹۲۶ء کو قادیان سے روانہ ہوئے۔اور شب روز تبلیغ میں منہمک رہ ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کے فضل سے شاء تک ارجنٹائن ہی مقیم میں شامی آپ کے ذریعہ مسلہ بگوش احمدیت ہوگئے۔اس کے بعد جنگ چھڑ گئی اور تبلیغی سرگرمیاں محدود کر نا پڑیں۔جنگ کے بعد ۱۹۳۵ء میں آپنے جنوبی امریکہ کے مغربی علاقوں یعنی مندوزا اور سمان جوان شہروں اور ان کے ماحول میں تبلیغی دورہ کیا اور لوگوں کو احمدی سے متعارف کیا۔اُن کا یہ دورہ بہت کامیاب رہا جسپر مندوزا نامی شہر کے مشہور اخبار حریت LALIBORTAD نے مسلم مبلغ صوبہ کے دروازہ پر کے عنوان سے ایک مفصل نوٹ لکھا ایک مولوی رمضان علی صاحب کو اب تحریک جاریہ کے مبلغ نہیں مگر اب بھی اپنے ذاتی کاروبار کے ساتھ ساتھ پیغام احمدیت پہنچانے میں کوشاں رہتے ہیں۔فصل سوم 611 مسلمانوں نے دئے تا ۱۳۹۳ ) قریباً آٹھ سو برس تک نہایت و اس دار التبليغ ستين الا شان و شوکت سے حکومت کی۔مگر بادشاہ فرڈینینڈ اور ملکہ از بیلہ کے اس مشتر کہ فرمان کے بعد کہ کوئی مسلمان اسپین میں نہیں رہ سکتا۔ہسپانوی مسلمان نہایت بے دردی اور سفاکی سے ختم کر دئے گئے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ہو نے اسپین کی اس سر زمین پر از سر نو لو ا ئے اسلام لہرانے کے لئے یکم فروری ۱۹۳ یو کو ملک محمد شریف صاحب گجراتی کو قادیان سے روانہ فرمایا کہ ملک صاحب ار مارچ ۱۹۳۶ء کو سپین کے دارالسلطنت میڈرڈ میں وارد ہوئے۔ملک صاحب نے زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ میڈرڈ کے مختلف انتخاص تک پی ایم من پہنچانا شروع کر دیا۔۵ار مئی شہداء کو آپ نے صدرجمہوریہ سپین کو انکی کامیابی پر مبارکباد کا خط لکھا جس میں حضرت مسیح موعود کی آمد کا بھی ذکر کر دیا۔تے ازاں بعد جلد ہی ملکی حالا نیچے یکا یک پلٹا کھایا اور اسپین میں بدامنی ا الفضل ۲۰ جنوری ۱۹۳۶ء صفحہ ا کالم اب سے آپ کی تبلیغی سرگرمیوں کا پہلا مرکز بونس آئرز تھا۔کے اہم شائع کردہ تحریک جدید (۱۹۳۶ (۶) ارجنٹائن کی ابتدائی رپورٹوں کے لئے ملاحظہ ہو افضل سارا پریل یہ صفحہ ہے اس نوٹ کا ترجمہ الفضل اور دسمبر 3 او صفحہ اکالم ۳ وہم میں شائع شدہ ہے۔" الفضل کار فروری ۳ الفضل د را گست ۱۹۳۶ ۶ صفحه ۲۱