تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 306
۲۹۳ اس ملک کا انتخاب کرنے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ یو لوینا پولینڈ کے مفتی اعظم ڈاکٹر یعقوب ہے شنگیفتش جب مارچ ۱۹۳۷ء میں ہندوستان کے دورہ پر آئے تو انہوں نے قادیان پہنچ کر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نہ کے حضور مسلمانان پولینڈ کے حالات بھی رکھتے جس پر حضور نے حاجی احمد خاں صاحب کو ہنگری سے پولینڈ روانہ ہونے کی ہدایت بھیجوائی ہے حاجی احمد خاں صاحب بوڈاپیسٹ سے روانہ ہو کر ۲۲ اپریل ۳ راء کو پولینڈ کے دارالسلطنت وارسا میں وارد ہوئے جہاں آپ تین دن ہوٹل میں رہے مگر کوئی موزون مکان کرایہ پر نہ ملا۔آخر و ارسا سے سات میں پر ایک نئی بستی میں ایک کمرہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔سے پولینڈ میں آپ کے ذریعہ پر وفیسر احمد نے سب سے پہلے احمدیت قبول کی۔آے آپ کی آمد کا یہاں بھی خوب چرچا ہوا۔چنانچہ ملک کے سب سے مشہور اور ہر دلعزیز روز نامہ KURDER کی وارمئی ۱۳ ء کی اشاعت میں آپ کا مفصل بیان شائع ہوا OZER MOIVY باقی اخبار وں نے مجاہد اسلام کی وارسا میں آمادگی خیر اسی نامی اختیار سے اخذ کر کے شائع کی اور اخبار" گرچہ پورینی اور وارسا کے مشہور روز نامہ EXPRESS PORANNY نے اپنی ۱۲ اگست شاہ کی اشاعت میں نوٹ بھی لکھے تے دارسا میں اٹھارہ افراد نے احمدیت قبول کی مگر پولینڈ کے پادریوں کی انگیخت کے باعث آپ کو پولینڈ چھوڑ کر جنوری شہداء میں چیکوسلواکیہ میں آنا پڑا جہاں آپ نے تبلیغ کرنا شروع کر دی۔لیکن چونکہ حکومت نے ویزا میں توسیع کرنے سے انکار کر دیا۔اسلئے آپ ۲۶ جولائی ۱۹۳۶ ایو خه کو واپس قادیان آگئے - ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں کہ سماجی احمد خان صاحب ایاز کے بعد مکرم محمد ابراہیم صاحب ناصر نے دار التبلیغ بوڈاپیسٹ کا چارج سنبھالا۔له ، الخضر ۲۳ مارچ ۳۶ بر صفحه اکالم ہے مجاہد ہنگری صفحه ۱۲۲ ، سبل المفضل و رئیس و کالم : : کی الجیریا کے باشندے اور چار سال سے پولینڈ میں عربی کے پروفیسر تھے جرمنی، فرانسیسی اور پولش زبانوں کے ماہر ہیں۔الفضل ۱۲ مئی شاء صفحہ و کالم ہم سے بیان کا ترجمہ الفضل ۲۹ جون دو صفحوں پر چھپ چکا ہے ت الفضل ، را گست ۱۳۷ او صفحه ۲ کالم ا ء کے اہم شائع کردہ تحر یک جدید ( ۲۱۹۳۹) شه الفضل ۲۹ جولائی ۱۹۳۰ ء صفحه ۲ کالم ۱و۲ :