تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 304
٢٩١ " عزیزم مکرم ایاز صاحب - استسلام علیکم ورحمه الله و برکانده اللہ تعالی آپکے کام میں برکت دے اور آپ جس مقصد یعنی تبلیغ کے لئے جارہے ہیں۔اس میں خاص کامیابی عطا فرمائے۔اور آپ کو اس ملک میں اسلام اور احمدیت کے پھیلا نے کا ذریعہ بنائے۔اور حافظ و ناصر ہو۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد باشد اللہ تعالیٰ نے اپنے مقدس و محبوب خلیفہ کی ان دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا۔چنانچہ خود حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرمایا کہ: "آپ کی تبلیغی سرگرمیاں بہت خوشکن ہیں۔خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کی بلند ہمتی میں اور اضافہ کرے اور خدمت دین کیلئے بیش از پیش خدمات کا موقعہ دے " اے خدا تعالے کی طرف سے تائید و نصرت یہ بھی ہوئی۔کہ ہنگری کے پریس نے آپ کی آمد پر طویل مضامین اور زور دار نوٹ شائع کرکے ملک کے گوشہ گوشہ تک یہ دھوم مچادی کہ جماعت احمد یہ کے یہ مبلغ ہمارے ملک S ZEKCLYSEG نے ا مسلمان کرنے کا عزم لئے ہوئے آئے ہیں۔ہنگری کے پولیس میں جب اسلام کا بار بار ذکر آیا تو رسالہ مسلم ڈیلی گیٹ کے نام کھلی چھٹی شائع کی جس میں لکھا کہ ہم کو منہ سے کوئی سرو کار نہیں اور ہم اسلامی پروپیگنڈا کا اتنا شور برداشت نہیں کر سکتے " اسپر ایاز خاں صاحب نے ہنگری کے تین لیڈروں سے اس رسالہ کے ایڈیٹر کے نام چٹھیاں لکھوائیں اور اپنے مضامین کی چند کاپیاں اور اخباریں بھی بھیج دیں۔مگر رسالہ کے ایڈیٹر نے اپنا نمائیندہ بھیجا کہ ایاز خان سے کہہ دے کہ ہم صرف آپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانا چاہتے تھے ورنہ ہم بھی اسلام کے دوست ہیں بلکہ حاجی احمد خاں صاحب ایاز نے ہنگری کے طول و عرض میں پیغام اسلام پہنچانے کیلئے دریا ہے قائم کر نبی کے علاوہ) مندرجہ ذیل ذرائع بھی اختیار کئے۔لیکچرز - انفرادی ملاقاتیں۔لٹریچر کی اشاعت۔دعوتیں اور مباحثات۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نہ کی دعاؤں کی برکت سے ایک نہایت قلیل عرصہ کے اندر ہنگری میں بقیه حاشیه : شیخ الہی بخش رحیم بخش احمدیان بک سیلوز و پبلشرز نگرات طبع اول شراءه ه افضل اور جنوری ۳۶ ور ا و صفحه کالم ٣ الفصل ۳۱ور جنوری ۱۹۳۶ء صفحه در کالم ۹۴ :::