تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 286 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 286

۲۷۳ ہمارا ہر ایک مبلغ جہاں جائے وہاں دینی اور اخلاقی تعلیم کا کالج کھل جائے کچھ دیر تقریر کرنے اور لیکچر دینے کے بعد اور کام کئے جاسکتے ہیں۔گرمتواتر بولا نہیں جا سکتا کیونکہ گلے سے زیادہ کام نہیں لیا جا سکتا۔مگر باقی قدمی سے کام لے سکتے ہیں۔میں تقریر کرنے کے بعد لکھنے پڑھنے کا کام سارا دن جاری رکھتا ہوں۔۔۔۔پس میں مبلغین کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اپنا کام اب جو سمجھا ہوا ہے۔وہ اُن کا کام نہیں ہے۔یہ بہت چھوٹا اور محدود کام ہے۔افسر کا کام یہ نہیں ہوتا کہ سپاہی کی جگہ بندوق یا تلوار لے کر خود لڑے۔بلکہ اُس کا کام یہ ہوتا ہے کہ سپاہیوں کو لڑائے۔اسی طرح مبلغ کا کام یہ ھو کہ جماعت کو تبلیغ کا کام کرنے کے لئے تیار کرے اور ان سے تبلیغ کا کام کرائے۔اسطح خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کی ترقی ہو سکتی ہے پہلے سے کئی گنا زیادہ بڑھ سکتی ہے۔اسی طرح جماعت کی تربیت کی طرف مبلغین کو تو بند کرنی چاہیے۔جماعت کے بیکاروں کے متعلق تجاویز سوچنی چاہئیں۔بیاہ شادیوں کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے جد و جہد کرنی چاہئیے بغرض جس طرح باپ کو اپنی اولاد کے متعلق ہر بات کا خیال ہوتا ہے۔اسی طرح مبلغین کو جماعت سے متعلق ہر بات کا خیال ہونا چاہیے۔کیونکہ وہ جماعت کے لئے باپ یا بڑے بھائی کا درجہ رکھتے ہیں، تے ۱۹۳۵ء میں سترہ جلیل القدر صحابہ انتقال بعض جلیل القدر صحابہ کا انتقال فرماگئے۔جن کے نام یہ ہیں۔۱- حضرت پیر سراج الحق سلاح بن سمساوی نعمانی دوفات ۳ جنوری ۱۹۳۵) بعمر اسی سال نہایت مخلص اور قدیم صحابہ میں سے تھے۔تذکرۃ المهدي (حصته اول و دوم مخمس" علم القرآن"۔قاعدہ عربی " پیر مہر علی شاہ گوٹھ وہی سے فیصلہ کا ایک طریق " سراج الحق (حصہ اول۔پنجم) آپ کی علمی یادگاریں ہیں۔لے روز نامه الفضل قادیان اور نومبر ۱۹۳۵ و ده دا ۱۹۳۵ ء ه ل ٣ الفصل 4 جنوری ۱۹۳۵ء صفحه ۱ : ا ::