تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 285 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 285

مبلغ سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہر روز کئی کئی گھنٹے تقریر کرے۔اگر کوئی ایسا کرے تو چند ماہ کے بعد اُسے سیل ہو جائے گی اور وہ مر جائے گا۔پھر روزانہ کہاں اس قدر لوگ مل سکتے ہیں جو اپنا کام کاج چھوڑ کر تقریریں سنے کیلئے جمع ہوں پس یہ کام چونکہ ایسا نہیں جو سلسل جاری رہکے اسلئے لوگوں کو شکایت پیدا ہوتی ہے کہ مبلغ فارغ رہتے ہیں حالانکہ ان حالات میں ان کا فارغ رہنا قدرتی امر ہے۔دراصل انہوں نے اپنے فرض کو سمجھا نہیں۔وہ کہو دیتے ہیں کہ جب ہمارے پاس کوئی آیا ہی نہیں تو ہم مجھائیں کسے ، اس وجہ سے ہم فارغ رہتے ہیں۔لیکن اگر وہ اپنا یہ فرض سمجھتے کہ ان کا کام صرف تقریر کرنا ہی نہیں بلکہ لوگوں کے اخلاق کی تربیت کرنا ہے۔انہیں تبلیغ کرنے کے قابل بنانا ہے۔اور کیپر وہ اپنا تصنیف کا شغل ساتھ رکھیں۔جہاں جائیں لکھنے پڑھنے میں مصروف رہیں۔کوئی ادبی مضمون لکھیں کیسی مسئلے کے متعلق تحقیقات کریں۔ضروری والے نکالیں۔تاریخی امور جمع کریں۔تو پھر انکے متعلق یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ فارغ رہتے ہیں۔یہ تاریخی مختلف کام ہیں جن کی طرف ہمارے مبلغین کو توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔اگر کوئی مبلغ کہیں جاتا اور وہاں تصنیف کا شغل بھی جاری رکھتا۔تو لوگ یہ نہ کہتے وہ فارغ رہا۔بلکہ یہی کہتے کہ لکھنے میں مصروف رہا۔مگر مبلغین کو اس طرف توجہ نہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ تصنیف کا کام نہیں ہورہا۔ممکن ہے اسوقت بھی یہاں بعض مبلغ ہوں مگر دعوت چونکہ ان کی طرف سے ہے جو آئندہ مبلغ بننے والے ہیں۔اس لئے میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وے دو ہی طریق اختیار نہ کریں جو اُن سے پہلوں نے کیا اور جس کیوجہ سے نو حصے کام ضائع ہوا اور صرف ایک حصہ ہورہا ہے۔اس طرح جماعت کی ترقی نہیں ہوسکتی کیونکہ جو مبلغ اپنے اوقات کی حفاظت نہیں کرتے اور انہیں مجھے طور پر صرف نہیں کرتے وہ جماعت کیلئے ترقی کا موجب نہیں بن سکتے۔جو لوگ آئندہ مبلغ بننے والے ہیں وہ اپنے اوقات کی پوری طرح حفاظت کرنے کا تہیہ کریں۔ان کا کام صرف اپنے منہ سے تبلیغ کرنا نہیں بلکہ دوسروں کو دینی مسائل سے آگاہ کرنا۔اُن کے اخلاق کی تربیت کرنا۔اُن کو دین کی تعلیم دینا۔اُن کے سامنے نمونہ بین کہ قربانی اور ابشار سکھانا اور انہیں تبلیغ کیلئے تیار کرتا ہے گویا