تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 284 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 284

٢١ بہت بڑا بوجھ ہے اور چندے کا بہت بڑا حصہ ان پر خرچ کرنا پڑتا ہے مگر وہ کام کیا کرتے ہیں۔اگر کام کرنیو الے صرف وہی ہوں تو سلسلہ کی ترقی بند ہو جائے۔ان کے ذریعہ سال میں مرے دو تین کے قریب لوگ بیعت کرتے ہیں۔اور باقی جن کی تعداد کا اندازہ دس بارہ ہزار کے قریب سے جماعت کے لوگوں کے ذریعہ احمدیت میں داخل ہوتے ہیں۔رہے مباحثات جو مبلغین کو کرنے پڑتے ہیں۔یہ اُسی وقت تک ہیں جبتک ہمارے ملک کے لوگوں کے اخلاق کی اصلاح نہیں ہوتی۔مباحثات پبلک کے اخلاق کی خرابی کیوجہ سے کرنے پڑتے ہیں۔ہمارایہ مقصد نہیں کہ علماء مباحثات کیلئے پیدا کریں بلکہ علماء کی غرض یہ ہے کہ وہ آفیسرز کی طرح ہوں جو اپنے اردگرد فوج جمع کریں اور اس سے کام نہیں۔یا اس گڈریے کی طرح جسکے ذمہ ایک گلے کی حفاظت کرنا ہوتی ہے اور یہ کام دس میں مبلغ بھی لنگی سے کر سکتے ہیں۔جب تک ہمارے مبلغ یہ نہ جھیں۔اسوقت تک ہمارا مقصد پورا نہیں ہوسکتا۔مبلغ کے معنے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ غیروں کو مخاطب کرنیوالا مگر صرف یہ معنی نہیں۔بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ غیروں کو مخاطب کرانے والا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون مبلغ ہوسکتا ہے؟ مگر آپ کس طرح تبلیغ کیا کرتے تھے ؟ اس طرح کہ شاگردوں سے کراتے تھے۔صحابہ میں آپ نے ایسی روح پھونک دی کہ انہیں اُسوقت تک آرام نہ آتا تھا جبتک خدا تعالی کی باتیں لوگوں میں نہ پھیلا لیں۔پھر صحابہ نے دوسروں میں یہ روح پھونکی اور انہوں نے اوروں میں اور اس طرح یہ سلسلہ جاری رہا حتی کہ مسلمانوں نے اس بات کو بھلا دیا۔تب خدا تعالیٰ نے اُس روج کو دوبارہ پیدا کرنے کیلئے حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا۔اس طرح اب سول کریم صلی الہ علیہ وسلم ہی تبلیغ کر رہے ہیں پس علماء کا کام یہ ہے کہ وہ ایسے لوگ پیدا کریں جود و سروں کو تبلیغ کرنے کے قابل ہوں۔وہ خدمتگذاری اور شفقت علی الناس کا خود نمو ہوں۔اور دوسروں میں یہ بات پیدا کریں۔مگر عام طور پر مل لیکچر نے دینا یا مباحثہ کر لینا اپنا کام دینا یا سمجھتے ہیں اور خیال کر لیتے ہیں کہ اُن کا کام ختم ہوگیا۔اسکی ایک نتیجہ تو یہ ہو رہا ہے کہ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ علماء بیکار رہتے ہیں۔بات اصل میں یہ ہے کہ تقریر کرنے یا مباحثہ کرنے کے بعد مبلغ کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ کچھ آرام کرے، کیونکہ بولنے کا کام مسلسل بہت دیر تک نہیں کیا جاسکتا۔بولتے ہیں زور لگتا ہے اولیوریہ کے بعد انسان نڈھال ہو جاتا ہے۔