تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 7 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 7

بلکہ القاء الہام سے زیادہ منفی ہوتا ہے۔یہ تحریک بھی جو القادم الہی کا نتیجہ تھی پہلے تھی تھی مگر جب اس پر نخور کیا گیا تو یہ اس قدر تفصیلات کی جامع نیکلی کہ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالٰی نے ہمارے زمانہ کے لئے اس میں اتنا مواد جمع کر دیا ہے کہ اصولی طور پر اس میں وہ تمام باتیں آگئی ہیں جو کامیابی کے لئے ضروری ہیں" سے تحریک جدید کی نسبت پہلا اعلا جب کہ اوپر ذکرکیا جاتا ہے کہ الہ تعالی کی طرف سے سیدنا چکا حضرت خلیفہ اسیح الثانی پر تحریک جدید کا القاء اکتوبر ۱۹۳۷ء میں منعقد ہونے والی نام نہاد " احرار تبلیغ کا نفرنس کے دوران ہوا۔حضرت امیرالمومنین اگر چاہتے تو کا نفرنس شروع ہونے سے پہلے ہی اس کا اعلان فرما دیتے۔مگر حضور نے حیرت انگیز صبر و تحمل اور بے نظیر ذہانت و فطانت کا ثبوت دیتے ہوئے اُسے کانفرنس کے اختتام تک ملتوی کر دیا۔ابستہ 19 اکتوبر کو یعنی کا نفرنس کے شروع ہونے سے صرف دو روز پیشتر اپنے خطبہ جمعہ میں یہ اعلان ضرور فرما دیا کہ سات یا آٹھ دن تک اگر اللہ تعالٰی نے مجھے زندگی اور توفیق بخشی تو میں ایک نہایت ہی اہم اعلان جماعت کے لئے کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔میں وہ مطالبہ احراری جلسہ کے ایام میں پیش کرنا نہیں چاہتا تاکہ اُسے انتقامی رنگ پر محمول نہ کیا جا سکے اور تا وہ مطالبہ فتنہ کا کوئی اور دروازہ نہ کھول دے۔اس کے بعد میں دیکھوں گا۔کو آپ لوگوں میں سے کتنے ہیں جو اس قربانی کے لئے تیار رہتے ہیں جو قربانیاں اس وقت تک ہماری جماعت کی طرف سے ہوئی ہیں۔وہ ان قربانیوں کے مقابلہ میں بہت ہی حقیر ہیں جو حضرت موسی علیہ السلام کی جماعت نے کیں یا عیسی علیہ السلام کے حواریوں نے کہیں یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے کیں لیکن اب وقت ہا گیا ہے کہ ہم اس رنگ میں قربانی کریں جو بہت جلد نتیجہ خیز ہو کہ ہمار ے قدموں کو اس بلندی اتک پہنچا دے جس بلندی تک پہنچانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دنیا میں مبعوث ہوئے۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر آپ لوگوں میں سے بعض کو دور دراز ملکوں میں بغیر ایک پیسہ لئے نکل جانے کا حکم دیا گیا تو آپ لوگ اس حکم کی تعمیل میں نکل کھڑے ہوں گے۔اگر بعض لوگوں سے اُن کے کھانے پینے اور پہننے میں تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا تو وہ اس مطالبہ کو پورا کریں گے۔اگر بعض لوگوں کے اوقات کو پورے طور پر سلسلہ کے کاموں کے لئے وقف کر دیا گیا تو وہ بغیر چون و چرا کئے اس پر رضامند ہو جائیں گے اور جو شخص ان مطالبات کو پورا نہیں کرے گا وہ ہم میں سے نہیں ہو گا بلکہ الگ کر دیا جائے گا “ سے ا الفصل ۴ ۲۹ فروری در صفحه به فرموده ۲۱ اکتوبر ان له الفضل ۲۴ اکتوبر ۱۹۳۵ء صفحه ۰۳۱۲ *