تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 273 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 273

۲۶۰ 9 ماہ کی قید کا حکم دے دیا گے بلے نظر بندی سیاسی لیڈروں کی لیڈری چمکانے کا ہمیشہ ایک موثر ذریعہ رہا ہے۔مگر امیر شریعیت احرار کے معاملہ میں نتیجہ بالکل بر مکس نکلا۔چنانچہ بشیر احد صاحب جنرل سیکرٹی تحفظ مساجد و اوقات امرتسر نے ایک ٹریکٹ میں صاف صاف لکھا کہ : " یہ صرفہ احرار دوستوں کی ایک شطرنج کی چالی ہے کہ اپنے آپ کو گر فتار کیا کہ قوم کے سامنے ایک نئی ایجی ٹیشن کی صورت پیدا کر کے چندہ جمع کیا جائے۔کیونکہ آجکل چندہ کی کمی ہو چکی ہے اور دوسرے مسجد شہید گنج کے بارہ میں اسرار کا وقار قوم کے دلوں سے اٹھ چکا ہے اب چندہ آئے تو کس طرح۔اب مسلمان اتنے سادہ لوح نہیں ہیں وہ اپنے لیڈر اور غیرلیڈر میں تمیز کہ سکتے ہیں۔امیر شریعیت " کو یہ مسئلہ معلوم نہیں کہ جمعہ کی نمانہ قصبہ میں نہیں ہو سکتی جبکہ شہر کی جامع مسجد افضل و بہتر ہے۔بار بار قادیان قادیان کی رٹ لگانا اور ایجی ٹیشن پیدا کر کے غریب اور جاہل مسلمانوں کو قربانی کا بکرا بنانا اور گورنمنٹ کو تنگ کرنا یہ کسی عقلمند لیڈر کا کام نہیں محض قادیان میں فساد پیدا کرنا اور پالک کو اپنی طرف متوجہ کرنا تا کہ جو شخص مسجد شہید گنج کے محاطہ میں بہت سے پارٹ ادا کر چکا ہے اس کی دندارت کے لئے رائے عامہ کو متوجہ کیا جائے اور الیکشن میں کامیاب کر دیا جائے۔بس یہ سے احرامہ کا اصل مقصد و مدعا سے ہے 14- البد که مورخ ۲۸ نومبرد دارد کبر نشود من - تذکره طبع دوم متے۔یا د رہے کہ مشہور عبر حضرت ابن سیرین کے نزدیک ٹوپی اتارنے کی تعبیر یہ ہے کہ مفارقة لرئیسہ یعنی حاکم وقت سے کشیدگی تعلقات اور پگڑی کی تعبیر میں لکھتے ہیں۔" قوة الرجل وتاجه وولانيه " یعنی اس آدمی کی طاقت اور اسکی بادشاہت و حکومت مراد ہوتی ہے تعبیر نا مہ حضرت محمد بن سیری بر حاشیه کتاب تعطیر الا نام جلد اول ۱۴۰۰ :