تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 267 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 267

۲۵۴ نہ ہوں کسی کی رہائش کا یا خوراک کا جماعتی حیثیت میں یا منفردانہ حیثیت میں مذکورہ بالانو ایام میں انتظام کریں گے " لے ہے۔مسائل کی جگہ پر مسافر کرنیوالوں او منتظمین اور پولیس کے سوا اور کسی کو جانے کی اجازت نہ ہوگی۔اگر درہ مذکورہ بال باتوں پرپیل کرنے کیلئے تیار نہ ہوں۔تو ہر حق پسند شخص تسلیم کر لیا کہ اتوار کی نیت مباہلہ کی نہیں۔بلکہ اس بہانے سے قادیان میں کانفرنس کر نے کی ہے۔س کی یہ واضع طور پر کہ دینا چاہتا ہوں۔کہ اس صورت میں ہم قادیان میں نہیں بلکہ گورداسپوریا لاہور میں مباہلہ کریں گے۔وہاں وہ بے شک جسقدر آدمیوں کو چا ہیں بلائیں۔گو اس صورت میں بھی مباہلہ کرنے والوں علاوہ دوسرے آدمیوں کو میدان مباہلہ میں آنے کی اجازت نہ ہوگی۔میر اس اعلان کے بعد بغیر شر اکھٹے کئے کے اور بغیر ایسی تاریخ کے مقرر کئے کے جو دونوں فریق کی رضامندی سے ہو اگر احرار ۲۳ نومبر یا اور کسی تاریخ کو قادیان آئیں تو اس کی غرض محض کا نفرنس ہوگی۔نہ کہ مباہلہ اور اس صورت میں اس کی ذمہ داری یا تو حکومت پر ہوگی یا احترار پر۔جماعت احمدیہ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہ ہوگی " سے اس اعلان کا بھی احرار نے کوئی جواب نہ دیا مگر اپنی گذشتہ روایات کے مطابق عوام کو قادیان میں ا ا جمع کرنے کا پراپیگینڈا سینے جائیں۔اس سلسلہ میں انہوں نے صدر آل انڈیا نیشنل لیگ کے نام سے اخبارات میں یہ اعلان بھی کرایا کہ انہیں حضرت امام جماعت احمدیہ کی طرف سے تار موصول ہوا ہے جسمیں ۲۳ نومبر کو قادیان میں سالہ ہونے کی اطلاع دیگئی ہے۔حالانکہ اس قسم کا کوئی تار صدر کو قادیان سے نہیں بھیجا گیا اور نہ اس وقت تک سبابہ منعقد ہو سکتا تھا جب تک احرار شرائط کا تصفیہ نہ کرلیں سمجھ لئے و قطعی طور پر تیار نہیں تھے۔یہ جعلی تار اصل میں پرو پیگنڈا کی کڑی تھا جو ان کی طرف سے لوگوں کو قادیان میں جمع کرنے کیلئے کیا جار ہا تھا۔۳ اعلان پر اعلان جاری رکھے کہ مسلما کثیر تعداد میں ۱۳ نومبر اسلام کو قادیان ۱۹۳۵ در نومب راء کا واقعہ ہے کہ موادی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری اور مولوی حبیب الرحمن صاحب ہوڑہ ایکسپریس پر امرتسر آرہے تھے۔بھو ماں وڈالہ ضلع امرتسر کے ایک احمدی محمد عبد الحق صاحب مجاہد ۱۹۳۵ ۱۰۰ نوید الفضل ۱۲ و ۲۳ کالم ہوا کے الفصل ما تو میرٹ اور منہ کالم : - ۱ ہے۔حال گنج مغلپورہ لاہورہ بینہ