تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 266 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 266

۲۵۳ تا ریخ مباہلہ سے متعلق اس قدر عرصہ پہلے اعلان کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اگر وہ حضرت خلیفہ المسیح کی ہے شرط مانتے کہ شرطیں کے ہونے کے بعد تاریخ مقرر کی جائے تو اس صورت میں انہیں ہنگامہ اور کا نفرنس کیلئے لوگوں کو جمع کرنا مشکل ہوتا۔اب انہوں نے قریبا ڈیڑھ ماہ پہلے آپ ہی تاریخ مقرر کردی تا اس عرصہ میں لوگوں کو آمادہ کر کے کانفرنس کی تیاری مکمل کر لیں یہ مگر گو حضرت خلیفہ المسیح الثانی سنہ کی نگاہ دور میں شروع ہی سے معاملہ کی تہہ تک پہنچ چکی تھی۔مگر اب تو احرار کے در پرندہ عزائم اُن کی زبانوں اور قلموں پر آگئے تھے۔لہذا اب جبکہ اصل معامل کھل کر سامنے آگیا حضور یہ کبھی گوارا نہیں کر سکتے تھے کہ آپ کی مخلصانہ دعوت مباہلہ کو ہنگامہ آرائی کا ذریعہ بنالیا جائے یا اس کے نام پر کانفرنس کی طرح ڈالی جائے۔چنانچہ حضور نے ارنومبر کس شہد کو مفصل کو الف و حالات سے پبلک کو آگاہ کر دیا اور حکومت اور افزار دونوں کے لئے غیر مبہم الفاظ میں اعلان کر دیا کہ:۔میں صاف لفظوں میں کہ دنیا چاہتا ہوں کہ ہم تقادیان میں مباہلہ کے لئے تیار ہیں۔مگر کانفرنس کے لئے نہیں۔اگر احرار کوفی الواقع مباہلہ منظور ہے تو 1- شرائط طے کر لیں۔۲۔پھر ایک تاریخ بتراضی طرفین مقرر ہو جائے یہیں کی اطلاع حکومت کو بغرض انتظام دے دی بھائے گی۔۔اگر وہ قادیان میں مباہلہ کرنا چاہتے ہیں تو لوگوں کو جو عام دعوت انہوں نے دی ہے اس کو عام اعلان کے ذریعہ سے واپس لیں۔مجلس احرار ہمیں یہ تحریری وعدہ دے کہ مباہلہ کے دن اور اسی چار دن پہلے اور بھار دن بعد کوئی اور عطیہ یا کانفرنس سواتے اس مجلس کے جو مباہلہ کے دن بغرض مباہلہ منعقد ہوگی۔وہ منعقد نہیں کریں گے۔اور نہ جلوس نکالیں گے۔اور نہ کوئی تقریر کریں گے۔اور یہ تحریر مجاہدہ میں بھی شائع کر دی جائے۔۵۔یہ کہ ان کی طرف سے مباہلہ کرنے والوں کے سوا جن کی فہرست ان کو پندرہ دن پہلے دینی ہوگی کوئی شخص باہر سے نہ تحریری نہ زبانی بلایا جائیگا۔نہ وہ اس صورت میں کو انہیں ہماری ضیافت منظور لے۔الفضل ار نو میر ا صل ہے