تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 265
۳۵۵۲ " مجلس مباہلہ کا انتظام جس طرح مرز امحمود فرمائیں ہمیں منظور ہو گا فقط یہ احتیاط چاہیئے۔کہ مسائلین کو دیکھنے والے لوگوں کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالی بھائے کہ لے نظارہ بینوں کیلئے روک نہ ہونے کے مطالبہ سے بھی معلوم ہوتا تھا کہ احرالہ کے مد نظر مباہلہ نہیں زیادہ ہے۔ورنہ مباہلہ میںنہ کوئی لمبی چوڑی تقریہ ہونی تھی اور نہ میدان مباہلہ کوئی تماشہ گاہ ہے کہ اس کے منے کیلئے لوگوں کو تحریک کی جائے۔چنانچہ امیر مجلس احرار قادیان کی طرف سے انہی دنوں قادیان کے نواحی علاقہ میں ایک اشتہار شائع کیا گیا جس میں سکھا : - 13 پچھلے سال قادیان میں جو کا نفرنس ہوئی تھی اس نہیں نصف لاکھ کے قریب سلمان جمع ہوئے تھے حالانکہ کانفرنس کا پہلا سال تھا۔اس سالن انشاء اللہ لکھوں کی تعداد میں مسلمان قادیان میں جمع ہونے والے ہیں " سے اس اشتہار نے جو مین مسائل کی گفتگو کے دوران تقسیم کیا گیا۔حقیقت پوری طرح واضح کر دی ، کہ احرار کا قادیان میں آنا مباہلہ کے لئے نہیں محض ہنگامہ بپا کرنے کے لئے ہے احراری کاروائی کا پس منظر اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ احرار کے اس قسم کے ٹال مٹول سے مطلب کیا تھا۔در اصل بات یہ تھی کہ حکومت پنجاب نے احمدی اور اسراری کشیدگی کے پیش نظر اپنے سرکار غیر بی ام و امین امین بی مورخہ ہار جولائی شلوار کے ذریعہ احمدار کو شہ ء میں قادیان کا نفرنس کرنے سے روک دیا تھا۔لیکن جب انہوں نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا چیلنج پڑھا تو انہوں نے سوچا کہ مباہلہ تو خیردیکھا جائیگا اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کہ ہم حکومت سے بر سر پیکار ہوئے بغیر قادیان میں کا نفرنس کہ میں گئے۔کیونکہ مباہلہ کا چیلنج جماعت احمدیہ کی طرف سے ہے اور ہم اُن کے بلائے پھر بھائیں گے اسلئے حکومت بھی ہم کو روکے گی نہیں۔چنانچہ یہ امر دل میں رکھکر انہوں نے فیصلہ کیا کہ بغیر اس کے کہ شرائط تحریر میں آئیں ہم مسائلہ کو منظور کر لیں۔جب شرائط طے نہ ہوئی ہوں گی تو کئی باتیں میں موقعہ پر ایسی نکل آئیں گی جن کی بناء پر مباہلہ سے انگانہ کیا جا سکے گا۔ہاں اس بہانہ سے قادیان میں کا نفرنس کا موقعہ مل جائے گا۔- اخبار مجاہد رنویر سه دسته - بحوالہ ۱۰؍ نومبر الفصل ۱۹۳۵ م کالم ۳۰ : ے۔بحوالہ الفضل در نومبر ۳۵ درصد کالم ۳ : ۵۳ الفضل ۲۱ نومبر ۳۵ہ مل :