تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 258
۲۴۵ الان مباہلہ کی نسبت پہنچی۔انہوں نے دیوانہ وار تار دیئے کہ ہیں اس مباہلہ میں شریک ہونے کی فر در سعادت بخشی جائے یہ اکتو بر دار کے آخری ہفتہ تک قریبا ایک ہزار احمدیوں کی درخواستیں حضرت امیرالمومنین کی نفرتیں پہنچ چکی تھیں جن میں نہایت ہی اخلاص ملکہ لجاجت سے درخواست کی گئی تھی کہ مباہلین میں ان کو بھی شرکت کا موقعہ عطا کیا جائے۔درخواست کر نیوالے ۱۵۲۷ احمدیوں کی ابتدائی فہرستیں انہی دنوں اختبار الفضل میں شائع کر دی گئی تھیں یکے احرار کا صداقت مسیح موعود پر اتوار لیڈروں نے جماعت احمدیہ کا یہ ولولہ اور تجزیہ دیکھا تو بہت پریشان خاطر ہوئے اور انہوں نے ادر کا کیا کہ وه مسالہ کا چیلنج اور اس کی منظوری صداقت مسیح موعود پر بھی باہر کریں گے حضرت خلیفہ ہیں مباہلہ ایچ الثانی نے احرار کا یہ چیلنج بھی نظور کرلیا۔اور نہایت تحدی کے ساتھ اعلان فرمایا کہ :- یہ مباہلہ بھی ضرور ہو مگر اس سے علیحدہ ہو وہ اس کے لئے دو سر پا نسور آدمی لائیں۔اور ہم بھی ایسا ہی کریں گے۔ہاں لیڈر وہی ہوں۔ان کے وہی پانچوں لیڈر ایک مباہلہ میں شامل ہوں اور وہی دوسرے میں۔اوہر کئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے مرد حبر اور ناظر دونوں میں شریک ہوں گے اور پانچ پانچ سو آدمی دونوں کے لئے علیحدہ علیحدہ ہوں گے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کوئی ایسی چیز نہیں جس پر مباہلہ کرنے سے ہمیں گریز جو۔ہم آپ کی صداقت پر جہاں وہ چاہیں قسم کھانے کو تیار ہیں۔بلکہ حضرت سیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہی ہم نے اسلام کی صداقت سمجھی ہے۔ورنہ میں رنگ میں یہ مولوی اسلام کو پیش کرتے ہیں اس رنگ میں کون معقول شخص مان سکتا ہے۔جو نا معقول یہ کہتے ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی زاد بہن کو دیکھا اور نعوذ باللہ اس پر عاشق ہو گئے۔ایسے بیوقوفوں کے بتائے ہوئے اسلام کو کون مان سکتا ہے۔خدا تعالی کا بتایا ہوا السلام تو وہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت کو ثابت کرتا ہے جو صحیح احادیث میں ہے مگر کون ہے جو ہمیں قرآن کریم کی طرف لایا۔صحیح احادیث کی طرف لایا۔یا تازہ نشانات کی طرف لایا۔یہ سب کچھ ہمیں مسیح موعود علیہ الصلواة و السلام کے ذریعہ سے ملا۔اور اس کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ ہم آپ کی صداقت کے متعلق مباہلہ کر نے سے ایک منٹ کے لئے بھی پس و پیش کر سکتے ہیں۔ہم اس کے لئے تیار ہیں اور - الفضل بر اکتوبر ۳۵ مک کالم ۲-۳ بیے ملاحظہ ہوالفضل ۲۴ اکتوبر ۱۹ نومبر ۱۹۳۵ء تا۱۶