تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 5 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 5

میرے ذہن میں یہ تحریک بالکل نہیں تھی۔اچانک میرے دل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تحریک نازل ہوئی۔پس بغیر اس کے کہ میں کسی قسم کی غلط بیانی کا ارتکاب کروں میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ تحریک جدید جو خدا نے جاری کی میرے ذہن میں یہ تحریک پہلے نہیں تھی۔میں بالکل خالی الہمن تھا۔اچانک اللہ تعالٰی نے یہ سکیم میرے دل پر نازل کی اور میں نے اُسے جماعت کے سامنے پیش کر دیا۔پس یہ میری تحریک نہیں بلکہ خدا تعالنے کی نازل کردہ تحریک ہے۔لے اس سکیم میں بعض بچیزیں عارضی ہیں۔پس عارضی چیزوں کو میں بھی مستقل قرار نہیں دیتا۔لیکن باقی تمام سکیم مستقل حیثیت رکھتی ہے کیونکہ وہ محض اللہ تعالیٰ کے القار کے نتیجہ میں مجھے سمجھائی گئی ہے۔میں نے اس سکیم کو تیار کرنے میں ہرگز خور اور فکر سے کام نہیں لیا اور نہ گھنٹوں میں نے اس کو سوچا ہے۔خدا تعالے نے میرے دل میں یہ تحریک پیدا کی کہ میں اس کے متعلق خطبات کہوں۔پھر ان خطبوں میں میں نے جو کچھ کہا وہ میں نے نہیں کہا بلکہ اللہ تعالیٰ نے میری زبان پر جاری کیا کیونکہ ایک منٹ بھی میں نے یہ نہیں سوچا کہ میں کیا کہوں۔اللہ تعالے میری زبان پر خود بخود اس سکیم کو جاری کرتا گیا اور میں نے سمجھا کہ میں نہیں بول رہا بلکہ میری زبان پر سخدا بول رہا ہے۔یہ ہے تحریک جدید ایک ہنگامی چیز کے طور پر میرے ذہن میں آئی تھی۔اور جب میں نے اس تحریک کا اعلان کیا ہے اس وقت خود مجھے بھی اس تحریک کی کئی حکمتوں کا علم نہیں تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک نیت اور ارادہ کے ساتھ میں نے یہ سکیم جماعت کے سامنے پیش کی تھی۔کیونکہ واقعہ یہ تھا کہ جماعت کی اُن ونوں حکومت کے بعض افسروں کی طرف سے شدید ہتک کی گئی تھی اور سلسلہ کا وقار خطرے میں پڑ گیا تھا پس میں نے چاہا کہ جماعت کو اس خطرے سے بچاؤں۔مگر بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی رحمت انسانی قلب پر تصرف کرتی اور روح القدس اس کے تمام ارادوں اور کاموں پر حاوی ہو جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں میری زندگی میں بھی یہ ایسا ہی واقعہ تھا جبکہ روح القدس میرے دل پر اُترا اور وہ میرے دماغ پر ایسا حاوی ہوگیا کہ مجھے یوں محسوس ہوا گویا اس نے مجھے ڈھانک لیا ہے اور ایک نئی سکیم ایک دُنیا میں تغیر پیدا کر دینے والی سکیم میرے دل پر نازل کر دی اور میں دیکھتا ہوں کہ میری تحریک جدید کے اعلان سے پہلے کی زندگی اور بعد کی زندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔قرآنی مکتے مجھ پر پہلے بھی کھلتے تھے 1449 له الفضل اور دسمبر که خطبه جمعه فرموده ۲۱ اکتوبر ۹۳۶ء مطبوعه الفضل " ۲۶ فروری له۔