تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 250
۲۳۷ صورت میں نزول کیا۔یہ مقدس ہے باقی سب دنیا سے مگر تابع ہے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے۔پس وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ اگر خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی بجائے تو احمدی خوش ہوں گے وہ جھوٹ بولتا ہے وہ افتراء کرتا ہے اور وہ ظلم اور تعدی سے کام لے کر ہماری طرف وہ بات منسوب کرتا ہے جو ہمارے عقائد میں داخل نہیں اور ہم اس شخص سے کہتے ہیں لعنة اللہ علی الکاذبین" ہم تو سمجھتے ہیں کہ عرش سے خلا مکہ اور مدینہ کی حفاظت کر رہا ہے۔کوئی انسان ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ان ظاہری طور پر ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی دشمن ان مقدس مقامات پر حملہ کرے تو اسوقت قات انی کو بھی موت کیسے بڑھایا ہے لیکن اگر خدانخواستہ کبھی ایسا موقعہ آئے تو اس وقت دنیا کو معلوم ہو جائے گا۔کہ حفاظت کے متعلق جو ذمہ داری خدا تعالیٰ نے انسانوں پر عائد کی ہے اس کی ماتحت جماعت احدیہ کی طرح سب لوگوں سے زیادہ قربانی کرتی ہے۔ہم ان مقامات کو مقدس ترین مقامات سمجھتے ہیں۔ہم ان مقامات کو خدا تعالیٰ کے جلال کے ظہور کی جگہ سمجھتے ہیں۔اور ہم اپنی عزیز ترین چیزوں کو ان کی حفاظت کیلئے قربان کر نا سعادت دارین سمجھتے ہیں۔اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ جو شخص توقیعی نگاہ سے مکہ کی طرف ایک دفعہ بھی دیکھے گا خدا اس شخص کو اندھا کر دے گا۔اور اگر خدا تعالے نے کبھی یہ کام انسانوں سے لیا تو جو ہا تھ اس بد میں آنکھ کو پھوڑنے کے لئے آگے بڑھیں گے ان میں ہمارا ہا تھ خد اتعالیٰ کے فضل سے ے سب سے آگے ہوگا اے حرار کو تباہی کا چینی " حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ان الزامات کی تردید پر اکتفا نہ کرتے ہوئے اخزانہ کو ہر دو امور کے تصفیہ کے لئے مباہلہ کا چیلنج بھی دیا۔چنانچہ فرمایا۔دوسرا طریق یہ ہے کہ ان مخالفین میں سے وہ علماء جنہوں نے سلسلہ احمدیہ کی کتب کا مطالعہ کیا ہوا ہو پانچ سو یا ہزار میدان میں نکلیں ہم میں سے بھی پانچ سو یا ہزارہ میدان میں نکل آئیں گے۔دونوں مباہل کریں اور دعا کریں کہ وہ فریق جو حق پر نہیں خدا تعالیٰ اسے اپنے عذاب سے طالب کر سے ہم دعا کریں گے کہ اے خدا تو جو ہمارے سینوں کے رازوں سے واقف ہے۔اگر تو جانتا ہے کہ ہمارے دلوں میں واقعی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و محبت نہیں۔اور ہم آچھ سات سے انبیاء سے افضل یہ تو یقین نہیں کرتے اور نہ آپ کی غلامی میں نجات سمجھتے ہیں اور حضرت مسیح موعود یہ السلام کوہ آپ کا ایک خادم اور غلام نہیں جانتے۔بلکہ درجہ میں آپ کو رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم الفضل ۲ ستمبر د مه قامه : 1