تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 249
٢٣٩ بھی بول سکتے ہیں۔یہ گواہی دے کہ انسی احمدیوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرنے والا اور آپکے نام کو دنیا میں بلند کرنے والا پایا تو اس سم کا اعتراض کرنے والوں کو اپنے فعل پر شرمانا چاہیئے۔میں سمجھتا ہوں وہ لوگ جو ہمارے متعلق یہ کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیک کرتے ہیں وہ بار بار ہمارے متعلق اس اتہام کو دوہرا کہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں۔کیونکہ کسی کو گالی دینے کا ایک طریق یہ بھی ہوا کرتا ہے کہ دوسرے کی طرف گانی منسوب کر کے اس کا فہ کر کیا جائے۔۔۔۔پس اگر یہ تصفیہ کا طریق حجر مکی نے بیان کیا ہے۔اس پر مخالف عمل نہ کریں تو میں کہوں گا ایسے اعتراض کو نیوالے در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خود مہتک کرتے ہیں گو اپنے منہ سے نہیں بلکہ ہماری طرف ایک غلط بات منسوب کر کے لے جہاں تک مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی نسبت احمدیوں کے عقیدہ کا تعلق ہے حضور نے واضح لفظوں میں اعلان فرمایا کہ: وه خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجا نا تو الگ رہی ہم تو یہ بھی پسند نہیں کر سکتے کہ خانہ کعبہ کی کسی اینٹ کو کوئی شخص بدنیتی سے اپنی انگلی بھی لگائے اور ہمارے مکانات کھڑے رہیں۔۔۔بیک ہمیں قادیان محبوب ہے، اور بے شک ہم قادیان کی حفاظت کیلئے ہر ممکن قربانی کرنے کیلئے تیار ہیں مگر خدا شاہد ہے نمانہ کعبہ ہمیں قادیان سے بدرجہا زیادہ محبوب ہے۔ہم اللہ تعالیٰ سے اس کی پناہ چاہتے ہیں۔اور ہم سمجھتے ہیں کہ خدا وہ دن نہیں لا سکتا۔لیکن اگر خدا نخواستہ کبھی وہ دن آئے کہ خانہ کسی بھی خطہ میں ہو اور قادیانی بھی خطہ میں میرا درد دنوں میں سے ایک کو بچایا جا سکتا ہو تو ہم ایک منٹ بھی اس مسئلہ پر غور نہیں کریں گے کہ کسی کو بچایا جائے بلکہ بغیر سوچے کہدیں گے کہ خانہ کعبہ کو بچانا ہمارا اولین فرض ہے۔کہیں قادیان کو ہمیں خدا تعالی کے حوالہ کر دینا چاہیے " ہم سمجھتے ہیں کہ ملکہ وہ مقدس مقام ہے جس میں وہ گھر ہے جسے خدا نے اپنا گھر قرار دیا اور مدینہ وہ بابرکت مقام ہے جس میں محمدصلی اللہ علیہ دو کہ دوستم کا آخری گھر بنا جس کی گلیوں میں آپ چلے پھرے اور جس کی مسجد میں اس مقدس نبی نے جو سب نبیوں سے کامل نبی تھا اور سب نبیلوں سے زیادہ خدا کا محبوب تھا۔نمازیں پڑھیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں۔اور قادیان وہ مقدس مقام ہے جس میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صفات مقدسہ کا خدا تعالیٰ نے دوبارہ حضرت مرزا صاحب کی ه الفضل / ستمبر ۱۹۳۵ء ۵-۶ +