تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 248 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 248

۲۳۵ چنانچہ شیخ حسام الدین صاحب نے مصوری میں مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کی صدارت میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔" اگر خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے تو مرزائی لوگ اسکی کوئی پروا نہ کریں گے۔بلکہ خوش ہوں گئے پہلے سید نا حضرت امیر المومنین خلیفہ ایسیح الثانی نے ان الزامات رت امیرالمومنین کار شوکت جواب سے جواب کی ، اوراست شکار کو یک ترگال خطبہ جمعہ دریا میں میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جماعت احمدیہ کی محبت و شیدائیت کا واضح ثبوت دیتے ہوئے فرمایا :- ہمارے عقائد بالکل واضح ہیں اور ہماری کتابیں بھی چھپی ہوئی موجود ہیں ان کو پڑھو کہ کون ہے ہو یہ کہ سکے کہ ہم نفوذ باشد من ذالک برسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مہک کرتے ہیں ناں دشمن یہ کہ سکتا ہے کہ کو الفاظ میں یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کرتے ہیں مگر ان کے دلوں میں آپ کا ادب نہیں۔مگر اس صورت میں ہمارا یہ پور چھنے کا حق ہو گا کہ وہ کونسے ذرائع ہیں جھی سے کام لیکر انہوں نے ہمارہ سے دلوں کو پھاڑ کر دیکھ لیا اور معلوم کر لیا کہ ان میں حقیقی ا ر سول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہتک کے جذبات ہیں۔۔۔۔اگر احمدی با لغرض عام مسلمانوں کے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے سے اس خیال سے بچتے ہیں کہ اس طرح مسلمان ناراض ہو جائیں گے تو ہندوؤں سیکھوں اور عیسائیوں کے سامنے تو وہ نڈر ہو کر سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعوذ باللہ نہ کرتے ہوں گے۔۔۔پس میں کہتا ہوں تصفیہ کا آسان طریق یہ ہے کہ ہندوؤں دیکھوں اور عیسائیوں میں سے ایک ہزار آدمی چنا جائے اور وہ موکد بعذاب خلف اٹھا کہ بتائیں کہ احمدی عام مسلمانوں سے رول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و عظمت کی متعلق نہ زیادہ جوش رکھتے ہیں یا کم۔اگر ایک ہزار سارے کا سارا یا اس کا بیشتر حصہ۔کیونکہ ایک دجھوٹ اختیارہ زمیندار شاد سے تعلیم ہوتا ہے کہ شیخ صاحبنے ان دنوں اتراء پردازیوں کی خاص مہم جاری کر رکھی تھی۔بطور ثبوت صرف ایک جلسہ کی رپورٹ ملاحظہ ہو سیکھا ہے ۳۰ جولائی (شاد) کو بر ز چہارشتہ ساڑھے نو بجے شام ام ال ای د امرتسر میں حرار امر مرنے ایک طلبہ کیا۔ادا میں سے شیخ حسام الدین بی نے تقریر کی تقریر کا بھی افترا و ایران کا ایک انوکھا مجموعہ تھا۔احرار اگراپنا کھویا ہو او قار قائم کرنے کی فکر میں ہیں تو اس کیلئے انہیں اس قسم کی کذب آفرینی نہیں کرنی چاہیئے۔کیونکہ اس سے تو ان کے وقار کو اور بھی دھکا لگے گا۔شیخ حسام الدین پر واضح رہنا چاہیئے کہ شیشہ کے مکان میں بیٹھ کر دوسروں پر پھر پھینکنا نہایت ہی غلط قدم ہے۔زمینداری پوریم را گست ۳۶ دار صت بعنوان امرتسرین (حوالہ کی خفتنہ پردازی ) سے الفصل ۲ ستمبر اصلا کالم ٢ :