تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 247
۲۳۴ مقبولین الہی کی دل سے نکلی ہوئی دعائیں اور آہیں عرش کو ہلادیتی ہیں اور خطرات کے منڈی تھے ہوئے سیاہ بادل چھٹ جاتے ہیں اور مطلع صاف ہو جاتا ہے۔یہی صورت یہاں ہوئی اللہ تا نے محض اپنے فضل سے سرزمین عرب کو نہ صرف اس معاہدہ کے بد اثرات سے بچا لیا بلکہ ملک عرب کی کانوں سے اس کثرت کے ساتھ معدنیات بر آمد ہوئیں کہ ملک مالا مال ہو گیا۔اس حقیقت کی کسی قدر رو داد مولانامحی الدین بلوائی ایم۔اسے الازہر کی کتاب تغرب دنیا میں موجود ہے۔فصل چهارم احرار کا احمدیت پر جب احرار نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ نے ان کی حقیقت کو ظاہر کر کے انہیں مسلمانوں کی نظروں میں گرا دیا ہے تو انہوں نے دوبارہ مقبول ہونے کیلئے احمدیت وبارہ حملہ اور ناکامی پر ایک بار پر حل کرنے کا فیصلہ کیا۔چنانچہ اخبار مجاہد نے لکھا۔مسلمانو ! اگر اپنے دشمن قادیانی کو یہ باد کرنا ہے تو تمام اختلافات مٹا کہ مرزائیت کی بربادی کے لئے متحد ہو جاؤ " نیز سکھا :۔”ہندوستان کی نگی قوم مسلم کے لئے مجلس احمد د اسلام ایک رحمت کی چھانہ رہے۔۔۔۔۔۔واقعات لاہور کے چند غرض مند دیوانوں نے شور مچا دیا کہ چادر تو چھلنی ہو چکی مسلمانوں کے ایک طبقہ نے ایک لقمہ غریب کھایا اور سمجھے کہ ہم نے بھی چادر میں سوراخوں کو دیکھا ہے اور سب نے مل کر شور کیا کہ چادر کو پھاڑ ڈالو۔۔۔مسلمانوں کا ہنگامی جوش اور جذبات کے زیر اللہ ہو کر چھوٹے چھوٹے مفروضہ سوراخوں میں اسے تبدیل کرنا کہاں کی اسلام دوستی ہے۔نئی تو مل نہیں سکتی اور پرانی کو بھی پھاڑ ڈالو۔افسوس اس عقل اور فہم تیرے اب احرار نے اپنے مقصد کی تکمیل کیلئے بہتان تراشی کا نیا سلسلہ دو جھوٹے الزام کی تشہیر شروع کیا اور دو الزامات کی خاص طور پر تشہیر کی۔اوّل یہ کہ احمدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درجہ کو بانی سلسلہ احمدیہ کے درجہ سے (نعوذ باللہ) اونی سمجھتے ہیں۔دوسرے یہ کہ احمدیوں کے نزدیک قادیان کی بیستی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے افضل ہے۔ہ مجاہد کی ہور ار گشت کالم ۲-۳-۲ : ۳ ایضاحت کالم ۲ : راگ + |