تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 4 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 4

۴ تا ہے اور وہ بو سے بھی دیتے جاتے ہیں اور یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ میرے آقا امیر اجسم اور روح آپ پر قربان ہوں۔کیا آپ نے خاص میری ذات سے قربانی چاہتی ہے ؟ اور میں نے دیکھا کہ ان کے چہرہ پر اخلاص اور اپنی دونوں قسم کے جذبات کا اظہار ہو رہا ہے۔میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ اول تو اس میں چوہدری صاحب کے اخلاص کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ کیا ہے کہ انشاء اللہ حیں قربانی کا ان سے مطالبہ کیا گیا۔خواہ کوئی ہی حالات ہوں وہ اس قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔دوسرے یہ کہ ظفر اللہ خان سے مراد اللہ تعالے کی طرف سے آنے والی فتح ہے اور ذات سے قربانی کی اپیل سے مالی نصر اللہ کی آیت مراد ہے کہ جسے خدا تعالے کی مدد اور نصرت سے اپیل کی گئی تو وہ آگئی اور سینہ اور کندھوں کو بوسہ دینے سے مراد علم اور یقین کی زیادتی اور طاقت کی زیادتی ہے اور آقا کے لفظ سے یہ مراد ہے کہ فتح و ظفر مومن کے غلام ہوتے ہیں اور اُسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔اور جسم اور روح کی قربانی سے مرد جسمانی قربانیاں اور دعاؤں کے ذریعہ سے نصرت ہے جو اللہ تعالیٰ کے بندوں اور اُس کے فرشتوں کی طرف سے ہمیں حاصل ہوگی۔اس کے علاوہ بیسیوں رویا و کشوف اور الہامات اس تحریک کے بابرکت ہونے کے متعلق لوگوں کو ہوئے بعض کو رویا میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ یہ تحریک بابرکت ہے اور بعض کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا کہ یہ تحریک بابرکت ہے اور بعض کو الہامات ہوئے کو یہ تحریک بہت مبارک ہے۔فرض یہ ایک 鎗 ایسی تحریک ہے میں کے بابرکت ہونے کے متعلق بیسیوں رویا و کشون اور الہامات کی شہادت موجود ہے" سے خدا تعالے کی نازل کردہ تحریک تحریک جدید براہراست خداتعانے کی نازل کردہ تحریک تھی جو حضرت ا خلیفہ المسیح الثانی کے قلب مبارک پر ایسے رنگ میں یکایک القار ہوئی کہ دنیا کی روحانی اور اسلامی فتح کی سب منزلیں اپنی بہت سی تفصیلات و مشکلات کے ساتھ حضور کے سامنے گئیں اور مستقبل میں لڑی جانے والی اسلام اور کفر کی جنگ کا ایک مجامع نقشہ آپ کے دماغ میں محفوظ کر دیا گیا۔تحریک جدید کی اس نمایاں خصوصیت کا تذکرہ خود حضرت خلیفہ ایسیح الثانی نے متعدد بار فرمایا بطور مثال چند فرمودات درج ذیل کئے بجاتے ہیں :- ا جب میں نے اس کے متعلق ارادہ کیا تو میں خود نہ جانتا تھا کہ کیا کیا لکھوں گا۔نگر ہوں جوں میں نوٹ لکھتا جاتا۔خدا تعالے وہ طریق اور وہ ذرائع سمجھاتا جاتا تھا جن سے احمدیت مضبوط ہو سکتی تھی“ سے له الفضل " مر امیر شاه صفر و کالم ۳۰۲ به سے افضل ۲۱ و بر اه اه سنی ۵ کالم ۲ خطبه جمعه فرموده در شمار سے تقریر فرموده ۲۰ د کمبر له (غیر مطبوعه